اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 468 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 468

۴۷۳ واپسی پر دانہ آئیں۔چنانچہ انہوں نے مانسہرہ میں سٹرک پر ایسا انتظام کیا کہ علم ہوئے بغیر قافلہ گزرنے نہ پائے اور خود بھی مانسہرہ آگئے اور حضرت میاں صاحب کے وہاں پہنچنے پر اس خواہش کا اظہار کیا جب میاں صاحب سفر پر روانہ ہوئے تھے تو آپ نے خاندان کے افراد سے دریافت کیا تھا کہ ان کے لئے کیا کیا تحائف لا ئیں۔نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے اپنے لئے بگو گوشے بطور تحفہ پسند کئے تھے۔چونکہ یہ زیادہ دیر تک رکھنے سے خراب ہو جاتے ہیں۔اس لئے آپ نے اس شرط پر دانہ جانا منظور کیا کہ صبح آپ کے واپس آنے کا انتظام کر دیا جائے۔اس علاقہ کے لوگ شہسواری میں مشہور ہیں اور سید حیات علی شاہ بالخصوص اس فن کے ماہر تھے۔ان کے پاس ایک گھوڑا بارہ صد روپیہ کا تھا اس پر انہوں نے صاحبزادہ صاحب کو سوار کیا اور خود اس کی باگ تھامی اور حسب وعدہ اگلے روز صبح ہی گھوڑوں پر واپسی کا انتظام کیا۔حضور کو وہاں سید حیات علی شاہ صاحب نے اپنے مکان پر جو ان کی بیٹھک بنگلہ کے نام سے مشہور ہے ٹھہرایا تھا۔(ب) حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ وزیر ہند مسٹر مانٹیگو کی ملاقات کے لئے دہلی تشریف لے گئے ان کی وفات کا واقعہ مولوی صاحب یوں بیان کرتے ہیں کہ انہیں گھڑ دوڑ کے لئے مدعو کیا گیا جب روانہ ہوئے بارش کی وجہ سے راستہ میں جو نالہ آتا ہے وہ پانی سے بھر چکا تھا اس میں سے گزرتے ہوئے انہوں نے پانی کی وجہ سے دونوں پاؤں زمین پر رکھ لئے اور کنارہ پر پہنچ کر چھلانگ لگا کرختگی پر پہنچنا چاہا لیکن ندی میں گر پڑے اور اگلے روز لاش پانی کے اوپر آئی تو ملی۔سید حیات علی شاہ صاحب آپ کی بڑی پھوپھی کے بیٹے تھے آپ بیان کرتے ہیں کہ: ” میرے پھوپھی زاد بھائی سید حیات علی شاہ صاحب ابتداء میں بہت مخلص تھے اور موضع دانہ کے نمبر دار تھے۔ان کے والد سید فتح علی شاہ صاحب پیر تھے اور با اثر شخص تھے لیکن احمد بیت قبول کرنے سے محروم رہے۔اس وقت سید حیات علی شاہ صاحب کے اخلاص اور عقائد میں پختگی کا یہ حال تھا کہ والد کا جنازہ تیار ہوا۔لوگ بقیہ حاشیہ: - وفات تک آپ مجھ سے پڑھتے رہے۔پہلے صرف و نحو اور پھر منطق اور فقہ میں ہدا یہ پڑھتے تھے۔ہدایہ تو حضرت خلیفہ اول کی وفات تک پڑھتے اور حضور کی مرض الموت کے ایام میں میں نے آپ سے کہا کہ منطق کا سبق سیر کے دوران میں ہوا کرے۔چنانچہ ہم دونوں موضع منگل کی طرف سیر کے لئے جاتے لیکن اکثر منطق کے سبق کی بجائے لاہوری جماعت کا تذکرہ ہوتا رہتا۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ اور حضرت میاں بشیر احمد صاحب کے مکانوں کے درمیان کی گلی مسقف تھی جو حرم اول حضرت ام ناصر احمد صاحب والا حصہ ہے اس کے شمال کی طرف آیا۔سیڑھی ہوتی تھی جس سے اوپر جا کر صبح دس بجے کے قریب آپ کو سبق دیتا تھا۔