اصحاب احمد (جلد 5) — Page 469
تو رفقاء سفر میں مولوی صاحب بھی تھے۔جو (ج) حضور نے ۷ اپریل ۱۹۲۰ء کو سیالکوٹ کے سفر پر بعد عصر روانہ ہونا تھا۔چوک میں ہجوم انتظار میں تھا کہ معلوم ہوا کہ حضور نے بیت الدعاء میں دعا شروع فرمائی ہے۔چنانچہ سب احباب نے بھی دعا میں شرکت کے لئے ہاتھ اٹھا دئے۔دعا قریب نصف گھنٹہ تک جاری رہی۔پھر احباب سمیت تھوڑی دور پیدل چلنے کے بعد ان سے مصافحہ کر کے تانگہ پر سوار ہوئے لیکن موڑ پر تانگہ کا کچھ حصہ ٹوٹ گیا۔اس پر حضور نے حضرت نواب صاحب کا تانگہ منگوایا جو سات بجے شام پہنچا اور قافلہ نو بجے کے قریب بٹالہ پہنچا۔حضرت شیخ فضل حق صاحب کے ہاں کھانا تناول فرمایا اور دہلی دروازہ تک پیدل آکر تانگے پر سوار ہو کر ریلوے اسٹیشن پر پہنچے اور وہاں قیام کیا۔صبح گاڑی کو تاخیر ہوگئی اس لئے سیالکوٹ تار دیا گیا کہ شام کو وہاں پہنچیں گے۔سیالکوٹ میں 9 اپریل کو نماز فجر کے بعد حضور نے سید سرور شاہ صاحب، مولوی ذوالفقار علی خان صاحب و صاحبزادگان کو فرمایا کہ چلو میر حامد شاہ صاحب کے مزار پر دعا کر آئیں۔چنانچہ وہاں پیدل گئے اور لمبی دعا فرمائی۔دیگر رفقاء حضرت مولوی شیر علی صاحب ، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال اور جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب وغیر ہم تھے۔(الفضل ۱۷-۱۱-۱۷ زیر مدینة اسبیح و ۲۰-۱۱-۱۷ صفحہ اک۱) مولوی سرور شاہ صاحب کو دہلی سے فیروز پور جلسہ میں شمولیت کے لئے بھجوادیا گیا تھا۔ار الحكم ۲۰-۴-۷(صفحہ ۱تا۲) والفضل ۲۰-۴-۸ میں زیرہ مدینہ اسی یہ بھی ذکر ہے کہ بیرون “ ☆☆ رض سے مولوی سرورشاہ صاحب اور بعض دیگر افرادسیالکوٹ میں حضور سے آملیں گے۔بقیہ حاشیہ نماز کے لئے جمع ہوئے اور انتظار کرنے لگے کہ سید حیات علی شاہ صاحب آئیں اور جنازہ پڑھا جائے لیکن وہ نہ آئے۔آخر ان کے ایک گہرے دوست نے کہلا بھیجا پھر بھی نہ آئے۔پھر اس نے کہلا بھیجا کہ اگر آپ اب بھی نہ آئیں گے تو میرا اور آپ کا تعلق منقطع ہو جائے گا۔لیکن پھر بھی وہ جنازہ میں شریک نہ ہوئے لیکن افسوس ہے کہ اختلاف کے وقت محمد یا مین صاحب غیر مبائع سکند دانہ کے زیر اثر وہ متاع ایمان جیسی عزیز چیز کھو بیٹھے اور غیر مبایعین میں شریک ہو گئے اور یہاں تک نوبت پہنچی کہ ادنی کمینہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دیتے تھے۔ان کے جنازوں میں شریک ہو جاتے۔افسوس کہ ان کی اولاد بھی ان کی طرح خلافت ثانیہ کی بیعت سے محروم ہے اور ان کا بھائی غیر احمدی تھا۔محمد یا مین صاحب کو قادیان آنے کے لئے میں نے انہیں کئی بار کرایہ دیا۔اور وہ قادیان آتے رہے۔غیر مبائع ہونے کی حالت میں بھی ایک دفعہ کرایہ دیا وہ آئے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ حسب معمول کھڑے ہو کر ان سے ملے۔بعد ملاقات محمد یا مین صاحب روتے تھے اور آپ کا ذکر کرتے تھے کہ بہت خلیق ہیں لیکن بیعت سے محروم ہیں۔“