اصحاب احمد (جلد 5) — Page 402
۴۰۷ کہ دونوں سکولوں کے طلباء آپس میں نہ ملیں۔لیکن مطلب کے وقت خود اور دیگر اساتذہ کے ذریعہ مدرسہ احمدیہ کے طلباء کو خود بلواتے اور ان سے اپنی غرض پوری کرنے کے بعد پھر ان کو بری نظروں سے دیکھنے لگ جاتے مثلاً جب ٹورنامنٹ کے دن قریب آتے اور اس وقت ٹیموں کو پریکٹس کرانی ضروری ہوتی تو چونکہ مدرسہ احمدیہ کے طلباء عام طور پر فٹ بال اور ہاکی میں ہائی سکول کے طلباء سے بہتر کھلاڑی تھے۔مولوی صدرالدین صاحب میرے پاس اور دوسرے طلباء کے پاس آتے اور ہمیں کھیلنے کی تلقین کرتے اور انچارج گیمز وغیرہ دیگر اساتذہ کے ذریعہ ہماری آؤ بھگت کرتے لیکن جب وہ وقت گزر جاتا۔تو اپنے لڑکوں کو ہمارے ساتھ بولنے تک سے روک دیتے۔ایک دفعہ باہر بورڈنگ میں محض مدرسہ احمدیہ کے طلباء کے لئے انہوں نے یہ حکم دے دیا کہ کوئی غیر بورڈنگ میں نہ آئے۔لیکن چونکہ مدرسہ تعلیم الاسلام ابھی شہر میں ہی تھا۔اس کے طلباء اور اساتذہ بورڈنگ مدرسہ احمدیہ میں خالی گھنٹی وغیرہ میں آرام کرتے اور اس طرح ہماری کئی اشیاء وغیرہ کا نقصان ہوتا۔جس کے متعلق ہم حضرت صاحبزادہ صاحب اور حضرت مولوی صاحب کو وقتا فوقتا اطلاع دیتے رہتے۔چنانچہ ہم نے بھی ایک بورڈ لکھ کر لگا دیا کہ کوئی غیر بورڈر بورڈنگ میں داخل نہ ہو۔برادرم شیخ محمود احمد صاحب عرفانی نے جو اس وقت مدرسہ احمدیہ کے طالب علم تھے۔مولوی صدرالدین صاحب کو کہا کہ یہ اعلان آپ لوگوں کے لئے ہے۔اس پر ان کو غصہ آیا اور انہوں نے صاحبزادہ صاحب کو کہا کہ دونوں مدارس کو جمع کر کے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔چنانچہ انہوں نے ایک طویل تقریر میں کہا کہ میں طلباء کی اصلاح کے مدنظر حکم دیا تھا کہ غیر بورڈ رنہ آویں اور مدرسہ احمدیہ کی اعلیٰ جماعتوں کے طلبا کے (بشمول میرے ) نام لے کر کہا کہ ان کے حالات اچھے نہ تھے۔ان کی آمد ورفت بند کرنا مقصود تھا اور میرے اس حکم کے رد عمل میں یہ بورڈ لگا یا گیا ہے جس سے ایک نفاق وانشقاق اور تعلقات کو خراب کرنے کی طرح ڈالی گئی ہے وغیرہ وغیرہ۔اس پر حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب نے بڑے جوش سے تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سب کچھ مدرسہ احمدیہ اور اس کے طلباء کو بدنام کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے ان کے بیسیوں لڑ کے قابل اصلاح ہیں۔اس کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب افسر مدرسہ احمدیہ نے اپنی تقریر میں بلایا کہ یہ سب کچھ میرے حکم و منشاء کے ماتحت ہوا ہے نہ کہ انشقاق کی خاطر۔حضرت مولوی صاحب کا سلوک میرے ساتھ تو زندگی بھر مشفق باپ جیسا رہا۔اگر آپ کسی وقت ناراض بھی ہوتے تو اس میں بھی میری بہتری مدنظر ہوتی تھی اور مجھے یاد نہیں کہ اگر وقتی طور پر آپ ناراض بھی ہوتے تو اول تو اسی روز ور نہ دوسرے دن ناراضگی کا ازالہ نہ کر دیتے۔