اصحاب احمد (جلد 5) — Page 401
۴۰۶ ایک دفعہ حضرت مفتی صاحب نے حکم جاری کر دیا کہ جس زبان کی گھنٹی ہوطلبہ اسی زبان میں گفتگو کریں اس وقت میں پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا۔سبق حدیث یاد نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں مولوی عبداللہ صاحب نے حضرت مفتی صاحب ہیڈ ماسٹر کے پاس پیش ہونے کے لئے مانیٹر کے ساتھ بھیج دیا۔چونکہ گھنٹی عربی کی تھی۔حکم کے باعث وہ عربی بولنے پر مجبور تھا۔اس نے بجائے ” قال قال مولوی عبد اللہ “ کے کہا۔” کالا۔کالا مولوی عبداللہ۔اتنا کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔کیونکہ پانچویں جماعت پرائمری کے طالب علم کے لئے عربی میں گفتگو کرنا مشکل تھا۔مولوی عبداللہ صاحب کا رنگ بھی کشمیریوں کی طرح سفید نہ تھا۔مفتی صاحب کالا کالا کا لفظ سن کر ہنس پڑے اور ساتھ ہی لڑکے بھی ہنس پڑے اور آپ نے یہ کہہ کر معافی دے دی کہ آئندہ شکایت نہ آئے۔میں حضرت مولوی صاحب کو اس وقت سے جانتا ہوں جب آپ گلی اکال گڑھ میں ایک سکھ کے مکان میں بطور کرایہ دار ہائش رکھتے تھے۔اس کے بعد مجھ کو اور بعض دوسرے طلباء کو دینیات کی کلاس کی طرف منتقل کر دیا گیا اور حضرت مولوی صاحب ہمارے انچارج مقرر ہوئے ایک یا دوسال تک یہ کلاس جاری رہی جو انتظامی طور پر ہیڈ ماسٹر مدرسہ تعلیم الاسلام کے ماتحت تھی۔اس اثناء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہوئی اور دینیات کی کلاس مدرسہ احمدیہ میں تبدیل ہوگئی اور افسر مدرسہ احمدیہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) مقرر ہوئے۔چنانچہ میں نے جو علم بھی حاصل کیا وہ قریباً سارا صرف حضرت مولوی صاحب اور حضرت قاضی امیر حسین صاحب سے حاصل کیا ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد حضور کی یادگار میں مدرسہ احمدیہ کو مدرسہ تعلیم الاسلام سے علیحدہ کر دیا گیا اور بورڈنگ بھی علیحدہ علیحدہ کر دئے گئے تو مدرسہ احمدیہ کے افسر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب مقرر ہوئے اس وقت مدرسہ تعلیم الاسلام کے ہیڈ ماسٹر مولوی صدرالدین صاحب ( حال امیر غیر مبائعین ) تھے اور مدرسہ احمدیہ کے ہیڈ ماسٹر حضرت مولوی سید محمد سرورشاہ صاحب تھے۔دونوں سکول شہر میں تھے۔حضرت صاحبزادہ اس وقت صدر انجمن احمدیہ کے صدر بھی تھے اور میں مدرسہ احمدیہ کے ابتدائی داخل ہونے والوں میں سے تھا میں دیکھتا تھا کہ وہ تمام ذمہ دار افراد جو بعد میں غیر مبائع ہو گئے وہ ایسی ایسی باتیں کرتے رہتے تھے جن کے نتیجے میں علماء بھر نہ سکیں اور مدرسہ احمدیہ کے وجود کو بھی اچھی نظروں سے نہ دیکھتے تھے۔چنانچہ مولوی صدر الدین صاحب کا وطیرہ یہ تھا کہ وہ مدرسہ احمدیہ کے طلباء اور اسا تذہ کو بدنام کرنے کی تدابیر سوچتے رہتے تھے۔جب مدرسہ تعلیم الاسلام کا بورڈنگ باہر چلا گیا تو دونوں مدر سے اور بورڈنگ مدرسہ احمدیہ شہر میں ہی تھے مولوی صدرالدین صاحب اور ان کے ہمنواؤں کا یہ طریقہ تھا