اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 391 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 391

۳۹۶ کیا۔چند بزرگوں اور دوستوں کو بغرض دعا مد عو کیا جن میں حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب اور حضرت میر محمد الحق صاحب بھی شامل تھے۔میرے یہ دونوں بزرگ استاد میری درخواست پر غریب خانه پر تشریف لائے۔کامیابی پر خوشی کا اظہار فرمایا۔مبارک باد دی اور مزید علمی اور دینی ترقیات کے لئے دعا فرمائی۔ان بزرگوں کی دعاؤں کی ہی برکت ہے کہ آج خاکسار کو خدمت دین کی توفیق وسعادت مل رہی ہے۔فجزاهم الله احسن الجزاء ماہ اپریل ۱۹۳۹ء میں خاکسار مبلغین کلاس کے آخری سال میں تعلیم حاصل کر رہا تھا تو معلوم ہوا کہ ہم سے سینئر طلباء کو جو آخری کلاس میں تعلیم قریباً مکمل کر چکے تھے۔ان کی درخواست پر امتحان دینے کے لئے چھ ماہ کی مزید مہلت نظارت تعلیم وتربیت کی طرف سے مل گئی ہے اصولاً خاکسار کو ۱۹۴۰ء میں مبلغین کلاس کا آخری امتحان دینا تھا۔مگر خاکسار نے اپنی عمر اور دیگر حالات کو دیکھتے ہوئے نظارت تعلیم وتربیت کی خدمت میں یہ درخواست دی کہ خاکسار کو بھی سینئر طلباء کے ساتھ اسی سال ماہ ستمبر میں امتحان میں شریک ہونے کی اجازت مرحمت فرمائی جائے۔حضرت مولانا صاحب نے درخواست پر پُر زور سفارش کی۔نظارت تعلیم نے ان کی سفارش کے پیش نظر استثنائی طور پر اجازت دے دی۔جب جامعہ احمدیہ میں یہ اجازت موصول ہوئی تو حضرت مولانا موصوف نے خاکسار کو یاد فرمایا اور نہایت مسرت سے یہ خوش خبری سنائی اور ساتھ ہی فرمایا۔اب میں ماہ مئی سے ریٹائر ہورہا ہوں۔جامعہ احمدیہ میں میری یہ آخری سفارش تھی۔مجھے خوشی ہے کہ یہ آپ کے حق میں منظور کر لی گئی ہے۔آپ کے اس ہمدردانہ سلوک کا خاکسار کے دل پر ایک گہرا نقش باقی ہے۔خاکسار نے اسی وقت آپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عرض کی کہ امتحان میں شرکت کی اجازت تو مل گئی ہے میرے لئے وقت کم اور نصاب زیادہ ہے۔اس لئے آں مکرم خاکسار کی کامیابی کے لئے درد دل سے دعا فرمائیں۔آپ نے اس وقت بھی دعا کی اور آئندہ بھی دعا کرنے کا وعدہ فرمایا۔میں بھی بعد میں وقتا فوقتا دعا کے لئے عرض کرتا رہتا۔ماہ ستمبر ۱۹۳۹ء میں یہ امتحان ہوا۔بفضلہ تعالیٰ اور بزرگان کی دعاؤں کے برکت سے خاکسار اس امتحان میں نمایاں طور پر کامیاب ہوا۔فالحمد للہ علی ذالک۔خاکسار جب مبلغین کلاس میں تعلیم حاصل کرتا تھا تو ان ایام میں مدرسہ احمدیہ کے ہیڈ ماسٹر استاذی المکرم حضرت میر محمد الحق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ان سے بھی خاکسار کو شرف تلمذ حاصل ہے۔ان کی مہربانی سے بورڈنگ مدرسہ احمدیہ میں بطور ٹیوٹر کام کرتا تھا۔جب مبلغین کلاس میں کامیابی کا نتیجہ شائع ہوا تو حضرت میر صاحب مرحوم نے خاکسار کو طلب فرمایا اور خواہش فرمائی کہ میں ان کے ماتحت مدرسہ احمدیہ میں بطور استاد کام کروں۔میں نے ان کی خواہش کے احترام میں اپنی رضامندی کا اظہار کر دیا۔دودن میں ہی