اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 392 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 392

۳۹۷ نظارت تعلیم و تربیت کی طرف سے مدرسہ احمدیہ میں میری تقرری کی منظوری آگئی اور خاکسار یکم نومبر۱۹۳۹ء سے وہاں بطور استاد کام کرنے لگا اور تقسیم ہند کے وقت یعنی اگست ۱۹۴۷ء تک اس خدمت پر مامور رہا۔اس کے بعد تین سال تک مرکزی نظارتوں میں کام کرتا رہا اور ا۱۹۵ ء سے تبلیغ اسلام کے اہم فریضہ کی ادائیگی کی توفیق مل رہی ہے فالحمداللہ علی ذالک۔چونکہ ہمارے دینی اور علمی پودہ کی آبیاری انہی بزرگوں کی فیض رسانی کا نتیجہ ہے اس لئے بارگاہ رب العزت میں دعا گو ہوں کہ وہ ہمارے ان بزرگان کرام کے مدارج کو بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں ان کے پاکیزہ نمونہ پر چلنے کی تو فیق عطا فرمائے۔آمین۔۲۱- از محترم حکیم دین محمد صاحب پنشنرا کا ؤنٹنٹ مقیم دارالرحمت وسطی ربوہ ) حضرت مولانا بالفضل اولانا مولوی محمد سرور شاہ صاحب اپنے دستخط محمد سرور کے طور پر کرتے تھے اور سید سرور شاہ صاحب یا مولوی سرور شاہ صاحب آپ کا نام زبان زد خلائق تھا۔آپ کو میں نے ۱۹۰۲ء میں قادیان میں دیکھا۔مباحثہ مد کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آپ کو بھجوانا اور بطور منشی مولوی عبداللہ صاحب کشمیری کو بھجوانا یاد ہے۔مجھے آپ کی شاگردی کا فخر حاصل ہے۔میں نے مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان میں نویں اور دسویں جماعت میں آپ سے عربی پڑھی۔آپ نے ہمیں علم نحو کے نوٹ زبانی لکھوادئے تھے جن سے بغیر اعراب کے عربی عبارت پڑھنے کی قابلیت ہمیں حاصل ہو گئی تھی۔اس وقت قادیان کے علماء بشمولیت حضرت خلیفتہ المسیح مولوی نورالدین صاحب آپ کو فاضل علوم عربیہ خاص طور پر ماہر علم خو تسلیم کرتے تھے۔میں نے بچشم خود دیکھا کہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب۔مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی اور مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے مسجد مبارک ابتدائی میں ( جبکہ ابھی وسیع نہیں کی گئی تھی ) حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب سے نحو کی کتاب سیبویہ جو علم نحو کے امام سیبویہ کی تصنیف ہے روزانہ پڑھا کرتے تھے۔اس سے آپ کے تبحر علم کا اندازہ ہوتا ہے۔یہ وہ زمانہ تھا جبکہ حضرت میر محمد اسحق صاحب ابھی عہد طفولیت میں تھے اور حضرت حافظ روشن علی صاحب قرآن حفظ کرتے تھے ۱۹۰۵ء میں تعلیم الاسلام کا لج بنے پر آپ کو عربی کا پروفیسر بنا دیا گیا تھا۔حضرت مولوی صاحب کی تقریر مدلل ہوتی تھی۔گو آواز دھیمی تھی اور گر جدار تقریروں کے عادی تو نہیں البتہ علمی مذاق والا طبقہ اسے توجہ سے سنتا اور ذہن نشین کر لیتا تھا۔"