اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 390 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 390

۳۹۵ شاگردوں کے ساتھ آپ کا نہایت ہی محبت و ہمدردی اور پدرانہ شفقت کا سلوک تھا۔۱۹۳۸ء میں ہمارا امتحان ” مولوی فاضل“ قریب تھا۔فلسفہ کا نصاب ختم نہ ہوا تھا۔ہم نے آپ سے صورتِ حال عرض کی آپ نے بکمال شفقت ہماری درخواست کو قبول فرماتے ہوئے ہم کو زائد وقت دے کر پہلے مسجد مبارک میں اور بعد ازاں اپنے مکان پر کافی دنوں تک درس فلسفہ دیا جس سے ہم طلباء کو امتحان میں کافی مدد لی۔کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ دوران سبق میں کوئی بات سمجھ نہ آئی تو جامعہ کا وقت ختم ہونے پر حاضر خدمت ہو کر اس مشکل بات کو مزید سمجھنے کی خواہش کی۔آپ گھر کی طرف روانہ ہوتے تو خاکسار کو ہمراہ لیتے اور جامعہ احمدیہ سے شہر تک راستہ میں ہی درس کی مشکلات کو سمجھاتے۔اور اس امر کو کبھی برا نہ مناتے بلکہ خوش ہوتے کہ درس میں دلچسپی لی گئی ہے اور شکوک کا ازالہ کروایا گیا ہے۔۱۹۳۷ء میں محلہ دارالعلوم میں جامعہ احمدیہ کا ہوٹل نیا نیا قائم ہوا تو اس میں طلباء کے لئے بعض سہولتیں میسر نہ تھیں اور کچھ انتظامی خرابیاں بھی تھیں۔ہم چند طلباء آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی مشکلات کو پیش کیا۔آپ نے نہایت محبت و ہمدردی سے ہماری گزارشات کو سنا اور ہماری مشکلات اور انتظامی دقتوں کو رفع کرنے کے لئے فوری اقدام فرمایا۔اور اس طرح ہم بچوں کو اپنی پدرانہ شفقت سے نوازا۔خلافت اور حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی سے آپ کو والہانہ عقیدت تھی۔حضور بھی آپ کا بے حد اعزاز و اکرام فرماتے۔۱۹۳۷ء میں جب شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کو ان کی خلافت سے عدم عقیدت بلکہ نا واجب الزامات اور غیر وفادارانہ سرگرمیوں کی وجہ سے جماعت سے خارج کیا گیا تو جامعہ احمدیہ میں ایک غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا جس میں طلباء و اساتذہ کرام کی طرف سے شیخ مصری صاحب کی معاندانہ سرگرمیوں پر اظہار نفرت کرتے ہوئے ایک قرارداد پاس کی گئی۔اس قرارداد کے بارے میں ایک پروفیسر صاحب نے قدرے تذبذب کا اظہار کیا تو آپ نے اور استاذی المکرم حضرت میر محمد اسحق صاحب نے غیرت دینی کی وجہ سے ان کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا اور طلباء نے بھی برملا اس پروفیسر کے رویہ سے برأت کا اظہار کیا۔ہمارے یہ بزرگان کرام انتہائی کوشش فرماتے تھے کہ طلباء میں خدمت دین۔پابندی نظام اور عقیدت واطاعت خلافت کا جذبہ خاص طور پر پیدا کیا جائے۔کیونکہ مستقبل میں انہی نو جوانوں پر خدمت دین اور اشاعت اسلام کا فریضہ عائد ہونے والا ہے۔۱۹۳۸ء میں خاکسار مولوی فاضل کے امتحان میں جامعہ احمدیہ میں اول اور پنجاب یونیورسٹی میں دوم آیا۔نتیجہ کے وقت میں بورڈنگ مدرسہ احمدیہ کے کوارٹر میں محترم مولانا ملک سیف الرحمن صاحب فاضل ( حال مفتی سلسلہ ربوہ ) کے ہمراہ رہتا تھا۔امتحان میں کامیاب ہونے کی خوشی میں ایک مختصر سی دعوت چائے کا انتظام