اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 10 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 10

1۔اگر کوئی بیمار ہو تو با وجود بیسیوں طبیبوں کی موجودگی کے مجھ سے استمزاج کئے بغیر انہیں اطمینان نہیں ہوتا۔یہ اس وجہ سے نہیں کہ میں سیڈ ہوں کیونکہ میرے رشتہ دار جو موضع دنول میں رہتے ہیں ان سے بیگار اور ذلیل سے ذلیل کام لیا جاتا ہے اور ان کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔والد صاحب کی اس بات سے مولوی صاحب پر یہ اثر ہوا کہ میرے بھائی تعلیم حاصل کرتے ہیں وہ تو والد صاحب کا مقام حاصل کر لیں گے لیکن میں موضع دنوں کے لوگوں جیسا بن جاؤ نگا۔حصول علم کے لئے گھر کو خیر باد کہنا اس بات سے ایسی تحریک ہوئی کہ ایک رات بھی بسر کرنا دشوار ہو گیا۔اس وقت آپ تیرھویں سال میں تھے۔دوسری طرف خاندانی طریق یہ تھا کہ کوئی کام بھی خادم کی معیت کے بغیر نہیں ہوتا تھا۔کھیت میں جانا ہو۔نماز کے لئے مسجد میں جانا ہو ہمیشہ ساتھ نو کر ہوتا تھا اور آپ کے لئے میاں بگا ( والد مولوی سلیم اللہ صاحب مولوی فاضل حال اوکاڑہ منٹگمری) ملازم رکھے گئے تھے۔آخر آپ نے یہ سوچا کہ چونکہ میں اکیلا نہیں جاسکتا اس لئے اسے اپنا ہمراز بناؤں۔چنانچہ وہ راضی ہو گیا اور تین دن تک واپس آ جانے کے وعدے پر چھ کوس کے فاصلہ پر والدہ کو ملنے گیا۔حضرت مولوی صاحب نے سوچا کہ سفر میں کچھ پیسے بھی ہونے چاہئیں۔آپ کی والدہ بہت ضعیف ہو چکی تھیں اور چل پھر نہیں سکتی تھیں اس لئے نوکروں یا بچوں سے کام لیتی تھیں اور آپ ہی والدہ کارو پیدا ور قیمتی چیزیں رکھتے تھے۔آپ نے ان میں سے اٹھارہ روپے لے کر زمین میں دفن کر دیئے لیکن وہ ایک ہفتہ تک واپس نہ آیا۔آپ نے مایوس ہو کر رقم زمین سے نکال کر والدہ کی رقم میں رکھ دی لیکن اس شام کو وہ آ گیا۔بچپن کی نا مجھی اور سفر کی تکالیف سے ناواقف ہونے کی وجہ سے دونوں صبح ہی صرف تن کے کپڑوں میں خالی ہاتھ نکل کھڑے ہوئے۔اب خیال آیا کہ جائے مقصود کے لئے دریائے کاغان کا پل عبور کرنا ضروری ہے اور ان دنوں پل عبور کرنے کا محصول ایک پیسہ ہر ایک سے لیا جاتا تھا۔اس وجہ سے محافظ پل عبور کرنے سے روک دیں گے۔کم از کم دو پیسے ہونے چاہئیں اور بھوک بھی لگی ہوئی تھی۔قصبہ گھوڑی میں سلطان رہتا تھا اور وہ اس علاقہ کا بازار بھی ہے۔وہاں آپ کے خاندان کی کچھ زمین اور مکانات اور ایک گھراٹ ( پن چکی ) تھا۔آپ نے اس گھراٹ والے سے کچھ مکی حاصل کر کے کچھ دانے بھنا لئے اور کچھ ملکی بیچ کر اڑ ہائی پیسے رکھ لئے۔اس سے آگے کئی میل تک ایک پہاڑ پر چڑھنا پڑتا ہے یہ خیال کر کے کہ شاید کوئی تعاقب میں یہاں تک آ جائے تو ہمیں بھاگنا پڑے گا دونوں نے لنگوٹ کس لئے اور کپڑے ایک گٹھڑی میں باندھ لئے لیکن کوئی بھی تعاقب میں نہ آیا۔