اصحاب احمد (جلد 5) — Page 276
۲۸۰ اس تعلق میں سب سے اول حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کو مور د طعن گردان کر یہ طعنہ بھی دیا ہے کہ تفسیر قرآن مجید لکھی۔مدرسہ احمدیہ کے پرنسپل ہیں۔حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ کے استاد ہیں اور ان کی عدم موجودگی میں امام الصلوۃ ہوتے ہیں۔حضرت مولوی صاحب نے دلائل قاطعہ سے جواب دیتے ہوئے اس اصولی امر کا بھی ذکر کیا ہے کہ سرور شاہ کیا کسی خلیفہ کی بات بھی کتاب اللہ ، حدیث نبوی اور تحریرات سید نا حضرت مسیح موعود کے خلاف ہو تو قابل قبول نہیں۔۲۶۲ (۸) ” خلافت حقہ نام کتاب ( سائز ۱۸۷۲۶ صفحات ایک صد چار۔تالیف جنوری ۱۹۳۸ء اشاعت ۱۲؍ دسمبر ۱۹۳۹ء) یہ بجواب دواشتہارات مصری صاحب کہ کیا تمام خلیفے خدا ہی بناتا ہے۔خدا تعالیٰ کے حکم اور عدل کا فیصلہ۔“ اور عزل خلفاء ۲۶۳ آپ کی طرف سے عرض حال میں مرقوم ہے:۔یہ رسالہ فروری ۱۹۳۸ء کے پہلے عشرہ میں طبع ہو گیا اس کے ٹائٹل کا پروف جس دن میرے پاس آیا۔۔۔۔اسی وقت جناب ناظر صاحب امور عامہ نے مجھ سے ذکر کیا کہ ایک افسر کیا اس خواہش پر کہ اگر کچھ عرصہ مصری کے مقابل تحریرات شائع نہ ہوں تو بہتر ہو۔ہم نے کہہ دیا ہے کہ اگر دوسری طرف سے ہمارے خلاف کوئی تحریر شائع نہ ہوئی تو ہم اس کے خلاف کوئی تحریر شائع نہیں کریں گے۔اس لئے آپ یہ رسالہ شائع نہ کریں۔چنانچہ میں نے اسی وقت اس کا کام بند کر دیا۔اس کے بعد جناب مصری صاحب کی تحریرات ہمارے خلاف شائع ہوتی رہیں۔تو نومبر ۱۹۳۹ء میں میں نے دریافت کیا تو مجھے بتایا گیا کہ وہ معاہدہ مدت سے ختم ہو چکا ہے تو میں نے ٹائیٹل کا پروف پھر مطبع کو دیا۔۔۔مصری صاحب کے ان اشتہارات کا شخص یہ ہے کہ جن خلفاء کو خدا تعالیٰ بناتا ہے ان کو انسان معزول کرنے کے مجاز نہیں لیکن اللہ تعالیٰ سب خلفاء کو نہیں بناتا بلکہ صرف پہلے کو بناتا ہے اور بعد کے خلفاء کو انسان بناتے ہیں کیونکہ نبی کی وفات پر ایک زلزلہ آتا ہے اور وہ ایک بہت ہی خطرناک وقت ہوتا ہے بعد میں ایسی حالت پیدا نہیں ہوتی۔اس لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعد کے کسی خلیفہ کو نہیں بنایا جاتا۔حضرت مولوی صاحب جواباً بیان فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کی تحریر کے الفاظ اس کے مصدق نہیں۔الفاظ یہ ہیں :- جب کوئی رسول و مشائخ وفات پاتے ہیں تو دنیا پر ایک زلزلہ آ جاتا ہے اور وہ ایک بہت ہی خطرناک وقت ہوتا ہے مگر خدا کسی خلیفے کے ذریعہ اس کو مٹاتا ہے اور پھر گویا اس امر کا از سر نو اس خلیفہ کے ذریعہ اصلاح و