اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 270 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 270

۲۷۴ وغیرہم کی طرف سے تھا۔اس میں سترہ علماء میں آپ کا نام نامی ” حضرت مولانا محمد سرور شاہ صاحب قادیان“ بھی مرقوم تھا۔جو آپ کا اعلیٰ مقام یقین حضرت سید محد سرور شاہ صاحب سمجھتے تھے کہ حضرت میاں صاحب مصلح موعود ہیں اور مولوی حمد علی صاحب اور ان کے ساتھی بھی حضرت مولوی صاحب کے اس یقین کو جانتے تھے۔حضرت خلیفہ اسی اول کی وفات سے کچھ عرصہ قبل مولوی صاحب نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ مولوی سرور شاہ صاحب اکیلے ہیں لیکن ان کی وجہ سے سارا مدرسہ احمدیہ حضرت میاں صاحب کا طرفدار ہے تو مولوی صدر الدین صاحب نے کہا کہ خالی باتوں سے کچھ نہیں بنتا۔کچھ خرچ کرنا چاہئے۔چنانچہ اکبر شاہ خان صاحب نجیب آبادی کے الاؤنس میں پندرہ روپے کی زیادتی کی گئی۔جس سے وہ ان کا دم بھرنے لگے اور بیعت سے محروم رہے۔ایک روز سحری کے وقت حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کے پاس آئے اور کہا کہ مجھے خواب میں بتایا گیا ہے کہ حضرت میاں صاحب بچے خلیفہ ہیں اس لئے میں بیعت کے لئے ابھی آ گیا ہوں کہ شاید دیر ہونے سے کوئی اور اثر غالب نہ آجائے۔چنانچہ انہوں نے بیعت کر لی لیکن افسوس کہ پھر کسی معمولی بات کی وجہ سے وہ بیعت پر قائم نہ رہے۔(م) بلکہ آپ حضرت مسیح موعود کے عہد مبارک میں اس بارہ میں اعلیٰ مقام یقین پر پہنچ چکے تھے۔چنانچہ آپ رقم فرماتے ہیں :- حمد اس اعلان کے دوسری طرف حضرت نواب محمد علی خان صاحب اور حضرت مولوی شیر علی صاحب کی طرف سے ۱۴-۳-۲۱ کو مخالفین خلافت کے بعض افتراؤں کا جواب دیا گیا ہے۔اعلان مذکورہ متن قریباً انہی الفاظ میں بہتر احباب کی طرف سے الحکم میں شائع کیا گیا۔جس میں دسویں نمبر پر آپ کا اسم گرامی ” مولوی سید سرور شاہ فاضل درج ہے۔۲۴۸ غسل وغیرہ کے متعلق لکھا ہے: - عشاء کے قریب حضرت خلیفہ المسیح کو مولوی شیر علی صاحب بی۔اے نے غسل دیا اور مفتی فضل الرحمن صاحب و مولوی محمد سرور شاہ ، قاضی امیر حسین صاحب و میاں نجم الدین صاحب و مولوی غلام محمد و دیگر شاگردان 66 حضرت موجود تھے۔“ ۲۴۹ ** اکبر شاہ خاں صاحب نے بیعت کر لی تھی۔۲۵۰ لیکن وہ اس پر قائم نہیں رہے تھے بلکہ بعد میں بلکلی منقطع ہو کر دیگر مسلمانوں میں شامل ہو گئے تھے۔غالباً حضرت مولوی صاحب کا یہی مطلب ہوگا۔