اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 268 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 268

۲۷۲ اختلاف قائم اور فیصلہ مشکل۔پھر اس صورت میں ہم دونوں کل دس بجے مل کر غور و فکر کریں گے کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے۔چنانچہ مولوی صاحب آخر اس بات پر رضا مند ہو گئے ہیں کہ وہ اپنے دوستوں سے مشورہ کر کے کل دس بجے پھر ملیں گے۔حضرت نے اس سمجھوتہ کے ماتحت حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کو ایک فہرست دے کر حکم دیا کہ ان احباب کو رات کوٹھی دارالسلام میں جمع کرنے کا انتظام کیا جائے ساٹھ دوستوں کے نام اس فہرست میں تھے۔رات کو اجتماع ہوا اور مشورہ ہو کر بالا تفاق یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک واجب الاطاعت خلیفہ کا انتخاب ہونا چاہئے اور پہلے خلیفہ کی تدفین سے پہلے ہونا چاہئے تاکہ خلیفہ ہی خلیفہ کا جنازہ پڑھے۔اور تجہیز وتدفین کا انتظام کرے۔اور اسی مجلس میں یہ بھی قرار پایا کہ رات کو تہجد میں دعائیں کی جائیں اور کل روزہ رکھ کر اس معاملہ کے لئے خاص طور سے دعائیں کی جائیں۔خلیفہ اول کی وفات ☆۔۔حضرت بھائی جی فرماتے ہیں کہ مجھے ۱۳ مارچ ۱۹۱۴ء کو حضرت خلیفہ اول کے لئے لاہور سے کستوری لانے کے لئے فرمایا۔لاہور میں حضور کی وفات کا علم ہوا۔ریل میں واپس روانہ ہوا۔لاہور کے دوست ایک ٹریکٹ پڑھ رہے تھے۔میں نے بھی ایک ٹریکٹ حاصل کیا اور بٹالہ پہنچ کر پیدل دوڑتے ہوئے قادیان پہنچا کہ ٹریکٹ جلد از جلد مرکز میں پہنچا سکوں۔قادیان کی مقدس بستی ، تخت گاہِ رسول اور۔۔۔۔اور دارالخلافہ کی گلی کوچوں میں سے ہوتا ہوا میں پہلے بورڈنگ مدرسہ احمدیہ کے صحن میں داخل ہوا جس کے ایک کوارٹر میں ان دنوں حضرت مولا نا مولوی محمد سرور شاہ صاحب رہا کرتے تھے۔دستک دی۔سلام عرض کی اور بہت جلد کوٹھی دارالسلام پہنچنے کی تاکیدی عرض کے بعد آگے بڑھا۔“ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اور مکرم شیخ محمد اسمعیل صاحب سرساوی کو بھی وہاں پہنچنے کے لئے کہا۔دار السلام میں احباب کو نوافل میں مصروف پایا۔حضرت میاں صاحب کی خدمت میں ٹریکٹ دیا۔جس پر آپ نے احباب کو جمع کرنے کا حکم دیا۔حضرت خلیفہ اول جیسی ہستی سے محرومی کے غم اور مشکلات میں اس ٹریکٹ سے اضافہ ہوا تھا۔سید محمد احسن صاحب کا پیغام آنے پر کہ ان کا انتظار کیا جائے دس بجے کی بجائے ظہر الحکم جو بلی نمبر ص ۳۴۔یہ سارا بیان مولوی صاحب کا ہے کیونکہ جیسا کہ آگے ذکر ہے بھائی جی اس روز صبح لاہور گئے اور اگلے روز واپس آئے تھے۔