اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 256 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 256

۲۶۰ وہ سلسلہ کا مال ضائع نہیں کر سکتی۔ان لوگوں کے اخراج کے لئے عید کا دن مقرر ہوا۔(م) ستمبر ۱۹۰۹ء میں اس مکان کے تعلق میں ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے حضرت میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی کو تحریر کیا : - خلیفہ صاحب کا تلون طبع بہت بڑھ گیا ہے اور عنقریب ایک نوٹس شائع کرنے والے ہیں جس سے اندیشہ بہت بڑے ابتلاء کا ہے۔ذرہ بھر بھی مخالف خلیفہ کی رائے سے ہو تو برافروختہ ہو جاتے ہیں۔ان کا منشاء یہ ہے کہ انجمن کا لعدم ہو جائے اور ان کی رائے سے ادنی تخالف نہ ہو مگر یہ وصیت کا منشاء نہیں۔“ اکتوبر ۱۹۰۹ ء میں ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب نے میر صاحب موصوف کی خدمت میں تحریر کیا : - وہ باغ جو حضرت اقدس نے اپنے خون کا پانی دے دے کر کھڑا کیا تھا ابھی سنبھلنے ہی نہ پایا تھا کہ باد خزاں اس کو گرایا چاہتی ہے۔حضرت مولوی صاحب (خلیفہ اول۔ناقل ) کی طبیعت میں ضد اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ دوسرے کی سن ہی نہیں سکتے۔وصیت کو پس پشت ڈال کر خدا کے فرستادہ کے کلام کی بے پروائی کرتے ہوئے شخصی و جاہت اور حکومت ہی پیش نظر ہے۔سلسلہ تباہ ہو تو ہومگر اپنے منہ سے نکلی ہوئی بات نہ ملے پر نہ لے۔۔۔حضرت مرزا صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کے مرتے ہی سب نے آپ کے احسانات کو بھلا۔آپ کے رتبہ کو بھلا آپ کی وصیت کو بھلا دیا اور پیر پرستی جس کی بنیاد ا کھاڑنے کے لئے یہ سلسلہ اللہ نے مقر رکیا تھا قائم ہو رہی ہے۔کوئی بھی نہیں پوچھتا کہ بھائی یہ وصیت بھی کوئی چیز ہے یا نہیں؟ یہ تو اللہ کی وحی کے ماتحت لکھی گئی تھی کیا یہ پھینک دینے کے لئے تھی؟ اگر پوچھا جاتا ہے تو ارتداد کی دھمکی ملتی ہے۔مولوی صاحب فرماتا ہے کہ بمب کا گولہ دس دن تک چھوٹنے کو ہے جو کہ سلسلہ کو تباہ و چکنا چور کر دے گا۔تکبر اور نخوت کی کوئی حد ہوتی ہے۔نیک ظنی ، نیک ظنی کی تعلیم دیتے دیتے بدظنی کی کوئی انتہاء نظر نہیں آتی۔ایک شیعہ کی وجہ سے سلسلہ کی تباہی۔“ ۲۳۷ خواجہ صاحب کو کشمیر میں اس امر کا علم ہوا۔انہوں نے حضور کے رحم کے جذبات کو ابھارا اور اسی طرح میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی نے ان لوگوں کی طرف سے رحم کی درخواست کی اور حضور جو کہ ان لوگوں کی ٹھوکر کا موجب بنے سے بچتے تھے آپ نے ان کا معافی نامہ منظور کر لیا لیکن ان لوگوں کے دلوں میں جذبہء بغاوت نیز جذبہء عداوت حضرت میاں محمود احمد صاحب دن بدن زور پکڑ رہا تھا۔مدرسہ احمدیہ کی ایک میٹنگ میں خواجہ صاحب نے یہاں تک کہدیا کہ ہم نے غلطی کی کہ آپ کو میاں میاں کہہ کر سر پر چڑھالیا۔ہم آپ کو میاں کہہ کر پکارنا چھوڑ دیں گے۔پھر دیکھیں گے کون آپ کی عزت کرتا ہے۔ان لوگوں کا طریق یہ تھا کہ اگر حضرت میاں صاحب سلسلہ کا کوئی کام کرتے تو کہا جاتا کہ اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں اور اگر علیحدگی اختیار