اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 202 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 202

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر ایک شخص ایک ہی کام کا اہل نہیں ہوتا۔انگریزوں میں سے بہت سے لوگ قانون پڑھتے ہیں مگر لاء کالج سے نکل کر سارے کے سارے بیرسٹری کا کام نہیں کرتے بلکہ کئی ایک اور کاروبار کرتے ہیں۔تو اس مدرسہ سے پڑھ کر نکلنے والے کئی ایسے ہوتے ہیں جو ملازمتیں کرتے ہیں۔مگر یہ اس لئے نہیں بنایا گیا کہ اس سے تعلیم حاصل کرنے والے نوکریاں کریں بلکہ اصل مقصد یہی ہے کہ مبلغ بنیں۔اب یہ دوسری کڑی ہے کہ ہم اس مدرسہ کو کالج کی صورت میں دیکھ رہے ہیں تبلیغ کے لحاظ سے یہ کالج ایسا ہونا چاہیئے کہ اس میں نہ صرف دینی علوم پڑھائے جائیں بلکہ دوسری زبانیں بھی پڑھانی ضروری ہیں۔ہمارے جامعہ میں بعض کو انگریزی ، بعض کو جرمنی ، بعض کو سنسکرت ، بعض کو فارسی ، بعض کو روسی ، بعض کو سپینش وغیرہ زبانوں کی اعلیٰ تعلیم دینی چاہیئے۔کیونکہ جن ملکوں میں مبلغوں کو بھیجا جائے ان کی زبان جاننا ضروری ہے۔بظاہر یہ باتیں خواب و خیال نظر آتی ہیں۔مگر ہم اس قسم کی خوابوں کا پورا ہونا اتنی بار دیکھ چکے ہیں کہ دوسرے لوگوں کو باتوں کے پورے ہونے پر جس قدر اعتماد ہوتا ہے اس سے بڑھ کر ہمیں ان خوابوں کے پورے ہونے پر یقین ہے ہم نے دنیا کی صاف اور واضح باتوں کو اکثر جھوٹا ثابت ہوتا دیکھا ہے۔مگر ان خوابوں کو ہمیشہ پورا ہوتے دیکھتے ہیں۔انہی خوابوں میں سے ایک خواب یہ بھی تھا کہ اس میدان میں جہاں آج یہ جلسہ ہورہا ہے دن کے وقت کوئی اکیلا نہ آ سکتا تھا اور کہا جاتا تھا یہاں جن رہتے ہیں یہ جگہ جہاں یہ کوٹھی ہے جہاں یہ سرسبز باغ ہے جہاں سینکڑوں آدمی چلتے پھرتے ہیں یہاں سے کوئی شخص گذرنے کی جرات نہ کرتا تھا کیونکہ سمجھا جاتا تھا یہاں جن رہتے ہیں۔مگر اس جگہ کے متعلق خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دکھایا کہ شہر بس رہا ہے۔یہ اس وقت کی بات ہے جب قادیان کی دیواروں کے ساتھ پانی کی لہریں ٹکراتی تھیں۔جب قادیان کی زندگی احمدیوں کے لئے اس قدر تکلیف دہ تھی کہ مسجد میں خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے آنے سے روکا جاتا۔راستے میں کیلے گاڑ دیئے جاتے تھے تا کہ گذرنے والے گریں۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتایا کہ مجھے دکھایا گیا ہے یہ علاقہ اس قدر آباد ہوگا کہ دریائے بیاس تک آبادی پہنچ