اصحاب احمد (جلد 5) — Page 203
۲۰۷ جائے گی۔اس وقت کس کے ذہن میں یہ بات آ سکتی تھی کہ قادیان کی بستی ترقی کر سکے گی؟ یہ ویران جنگل جہاں جنات پھرا کرتے تھے جن یہی تھے کہ چور چکار لوگوں کو لوٹتے مارتے تھے اور لوگوں نے سمجھ لیا تھا یہاں جنات رہتے ہیں۔تو جہاں جنات پھرتے تھے کس کو توقع ہو سکتی تھی کہ یہاں فرشتے پھرا کریں گے۔لوگوں میں مشہور ہے کہ ابلیس فرشتہ تھا جو بگڑ کر ابلیس بن گیا۔یہ جھوٹ مشہور ہے مگر ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ وہ جو ابلیس تھے فرشتے بن گئے۔فرشتے کا ابلیس بننا جھوٹی کہانی ہے۔مگر اس میں شک نہیں کہ ہم نے جنوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ملائکہ بنتے اور ابلیس کو فرشتہ بنتے دیکھا ہے۔ہم نے ان ویرانوں کو آباد ہوتے دیکھا ہے جن کی طرف آنے کا کوئی رُخ بھی نہ کرتا تھا۔غرض ہم نے ایک ایسی بات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی اپنی آنکھوں سے پوری ہوتی دیکھی اور اس وقت کے لحاظ سے نہ کہ آئندہ کے لحاظ سے ترقی کی آخری کڑی جو ریل ہے وہ بھی عنقریب آنے والی ہے۔اس کے آنے میں سب سے بڑا حصہ قادیان کا ہے۔رپورٹ جو گورنمنٹ میں پیش کی گئی اس میں یہی لکھا تھا کہ قادیان میں اکثریت سے لوگ آتے ہیں اس لئے اس ریلوے لائن کا بننا مفید ہو گا۔پس یہ ریل قادیان کے سبب اور قادیان کی وجہ سے بن رہی ہے۔جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قادیان کی ترقی کا اعلان کیا اس وقت ان چیزوں کا خیال کس کو ہو سکتا تھا اور ریل کا خیال تو ایسا ہے کہ پچھلے سال تک بھی کسی کو خیال نہ تھا کہ اتنی جلدی بننا شروع ہو جائے گی۔زیادہ سے زیادہ یہ خیال تھا کہ چھ سات سال تک بن سکے گی۔مگر خدا تعالیٰ نے آنا فانا اس کے بننے کے سامان کر دیئے۔پس یہ خوا میں ہیں جو ہم نے پوری ہوتی دیکھیں اور بعض ایسی خواہیں ہیں جوا بھی پوری نہیں ہوئیں اور بعض ایسی ہیں جو مستقبل بعید سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کے پورا ہونے کے متعلق اندازہ لگانے سے ہم قاصر ہیں۔مگر خدا تعالیٰ نے ہمیں اس قدر خواہیں پوری کر کے دکھا دی ہیں کہ ہم پورے وثوق اور یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ جو ابھی پوری نہیں ہوئیں وہ بھی ضرور پوری ہوں گی۔گو اس وقت اس بات کو بھی خواب و