اصحاب احمد (جلد 5) — Page 155
۱۵۹ مخالفت بلکہ آپ کے ہلاک کرنے کی کوشش میں تعاون کا ذکر ہو چکا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے قلوب میں انقلاب پیدا کر دیتا ہے وہی والد جو بیٹے کے خون کا پیاسا تھا بالآ خر احمدیت کی صداقت کا شکار ہو گیا اور یہ بیان بقیہ حاشیہ: - لئے ہے۔اسی طرح انتظام کی درستی ، تمدن اور باہم نیک معاشرت اور اشتراک کے قیام کے لئے جب تک پریذیڈنٹ یا کوئی امیر نہ ہو۔سول اور سوشل تعلقات صحیح اور درست نہیں رہ سکتے۔اب پریذیڈنٹ کی افسری کے یہ معنی نہیں زیادہ سے زیادہ اس کو یہ درجہ دیا جاتا ہے کہ اس کی رائے کو انتظامی معاملات میں فوقیت دی جاتی ہے۔مگر اس کے شخصی حقوق دوسروں سے زیادہ نہیں ہو جاتے۔مثلاً ایک تجارتی کمپنی کا ایک پریذیڈنٹ ہو۔اس کی رائے کو بے شک وقعت دی جائے گی۔مگر وہ اپنی اس افسری کی وجہ سے یہ حق نہیں رکھتا کہ دوسروں کے حصہ پر بھی قبضہ کرلے کیونکہ اس کی افسری اور دوسروں کی ماتحتی با ہم تعاون اور اشتراک کے قیام کے لئے ہے نہ اس لئے کہ دوسروں سے کام لے کر فائدہ اٹھائے۔یہی ماتحتی ہے جو بیوی کی خاوند کے لئے مقرر کی گئی ہے جہاں آدمی زیادہ ہوں وہاں تو کثرت رائے پر بھی فیصلہ ہو جاتا ہے مگر میاں بیوی دو آدمیوں میں کثرت رائے کا سوال بھی اُٹھ جاتا ہے۔کیونکہ نوے فی صدی ایسے ہیں کہ جو ایک بیوی سے زیادہ بیویاں نہیں رکھ سکتے۔کیونکہ اگر غور کیا جائے تو مرد و عورت کی تعداد قریباً برابر ہے۔ایک تو اس وجہ سے کہ معقول تعداد آدمیوں کی ایسی ہے کہ جو نکاح کی طاقت ہی نہیں رکھتے۔مگر عورتیں باوجود کمزوری کے نکاح کر سکتی ہیں اور پھر پانچ فیصدی مردوں میں سے بھی جو ایک سے زیادہ بیویاں رکھ سکتے ہیں۔چند ایسے ہوں گے جو دو ہی رکھ سکیں گے اور چند ہی ایسے ہوں گے جو چار بھی رکھ سکیں۔قانون قدرت میں خدا تعالیٰ نے تعدا د نکاح میں خود ہی حد بندی کر دی ہے۔ایک لیڈی نے انگلینڈ میں مجھ پر سوال کیا تھا کہ اس اجازت سے تو ضرورت کے بغیر ہی ہر کس و ناکس کثرت ازدواج کرنے لگ جائے گا۔میں نے ان کو یہی جواب دیا کہ لوگ اس قدر عورتیں کہاں سے لائیں گے کہ ہر شخص ایک سے زیادہ نکاح کرنے لگے۔اگر ملک میں عورتیں اس قدر زیادہ ہیں کہ ہر شخص ایک سے زیادہ نکاح کرسکتا ہے۔تو پھر میرے نزدیک ہر شخص کا فرض ہے کہ ایسے کرے تا ملک کی طاقت ضائع نہ جائے۔لیکن اصل بات یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے خود ہی قانونِ قدرت کے ذریعہ اس کی حد بندی کر دی ہے۔جس سے کوئی تجاوز نہیں کر سکتا۔یہ طریق افسری اور ماتحتی کا جو میاں بیوی کے درمیان رکھا گیا ہے۔محض اس لئے ہے کہ تا وہ دونوں بغیر کسی قسم کی شکر رنجی کے ایک دوسرے کا تعاون کر سکیں۔مرد کی اس افسری کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی وجہ سے عورت سے مرد کے حقوق کچھ زیادہ ہو جاتے ہیں۔