اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 101 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 101

۱۰۲ مہاجرین ایسے تھے جو اس نیت سے قادیان میں آبیٹھے ہوئے تھے کہ دینی خدمات کے سرانجام دینے میں اپنی بقیہ زندگی بسر کر دیں تا ہم نو جوانوں کے علاوہ بعض اور دوستوں نے بھی زندگی وقف کرنے کے عہد کی درخواستیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت اقدس میں پیش کیں اور چونکہ حضور کی ڈاک کی خدمت اُن ایام میں میرے سپر تھی اس واسطے ان درخواستوں پر چند الفاظ لکھ کر حضور میرے پاس بھیج دیتے۔میں نے ایک رجسٹر بنالیا اور اس میں ان کو درج کر دیتا۔چنانچہ وہ رجسٹر اب تک میرے پاس محفوظ ہے۔“ ان میں سے دس کے اسماء درج کئے ہیں اور یہ بھی تحریر فرماتے ہیں کہ بعض کے اسماء درج رجسٹر ہونے سے رہ گئے۔درج شدہ اسماء میں حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب کا نام بھی درج ہے۔آپ کی درخواست پر حضرت صاحب نے فرمایا: - آپ کو اس کام کے لائق سمجھتا ہوں۔۵۴ ایک نشان کے شاہد آپ ایک پیشگوئی اور اس کے پورا ہونے کے شاہد تھے۔حضرت اقدس علیہ السلام کے الفاظ میں یہ نشان درج ذیل کیا جاتا ہے :- (۷) ساتواں نشان - ۲۸ فروری ۱۹۰۷ ء کی صبح کو یہ الہام ہوا۔” سخت زلزلہ آیا اور آج بارش بھی ہو گی۔خوش آمدی نیک آمدی۔چنانچہ یہ پیشگوئی صبح کو ہی قبل از وقوع تمام جماعت کو سنائی گئی اور جب یہ پیشگوئی سنائی گئی۔بارش کا نام ونشان نہ تھا اور آسمان پر ایک ناخن کے برابر بھی بادل نہ تھا اور آفتاب اپنی تیزی دکھلا رہا تھا اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ آج بارش بھی ہوگی اور پھر بارش کے بعد زلزلہ کی خبر دی گئی تھی۔پھر ظہر کی نماز کے بعد یک دفعہ بادل آیا اور بارش ہوئی اور رات کو بھی کچھ برسا اور اس رات کو جس کی صبح میں ۳ / مارچ ۱۹۰۷ء کی تاریخ تھی زلزلہ آیا جن کی خبریں عام طور پر مجھے پہنچ گئیں۔پس اس پیشگوئی کے دونوں پہلو تین دن میں پورے ہو گئے۔اس تحریر کے بعد ۵/ مارچ ۱۹۰۷ ء کی ڈاک میں دو خط مجھے ملے۔ایک خط اخویم مرزا نیاز بیگ صاحب رئیس کلانور کی طرف سے تھا جس میں لکھا تھا کہ ۲ را در ۳ / مارچ