اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 100 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 100

1+1 آپ کے لئے باعث افتخار تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک میں اشاعت کتاب اللہ کے لئے آپ کی تفسیر کو مستند سمجھا جائے۔یہ تفسیر ستمبر ۱۹۱۲ ء تک قریباً دو ہزار یک صد صفحات میں آٹھویں پارے کے یہ پانچویں رکوع تک شائع ہوئی۔نہ معلوم پھر اس کا سلسلہ کیوں جاری نہ رہ سکا۔اس میں سے قریباً ساڑھے سات صد صفحات حضرت اقدس علیہ السلام کے عہد میں شائع ہوئے۔مولوی صاحب نے نہایت قابلیت سے نہ صرف حضرت مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ کی تفسیر محفوظ کی ہے بلکہ اس پر نہایت فاضلانہ اضافے محققانہ رنگ میں تحریر کئے ہیں اور جابجا انمول موتی بکھیرے ہیں۔جن کا کچھ نمونہ قارئین کرام کے سامنے دوسرے حصے میں پیش کیا جائے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ رسالہ تعلیم الاسلام کے بعد کچھ عرصہ تک ریویو آف ریلیجز میں تفسیر شائع ہوتی رہی۔بعد ازاں مارچ ۱۹۰۸ء سے ایک سہ ماہی رسالہ تفسیر القرآن آپ کی ایڈیٹری میں محض اس تفسیر کی خاطر جاری کیا گیا جس میں ستمبر ۱۹۱۲ء تک تفسیر شائع ہوئی میں وقف ☆ گو حضرت مولوی صاحب ہجرت کر کے قادیان آئے یہ بھی وقف ہی تھا پھر بھی حضرت اقدس علیہ السلام کی تحریک پر ۱۹۰۷ء میں آپ نے اپنے تئیں خدمات سلسلہ کے لئے وقف کر دیا۔چنانچہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ :- ’۱۹۰۷ ء کے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔اب سلسلہ کا کام بڑھ رہا ہے۔اس بات کی ضرورت ہے کہ بعض نوجوان دور ونزدیک تبلیغ کا کام کرنے کے واسطے اپنی زندگیاں وقف کریں۔اگر چہ اس وقت قادیان میں مقیم اکثر (الف) رسالہ تعلیم الاسلام جلد نمبرا تا نمبر 1 میں از جولائی ۱۹۰۶ ء تا اپریل ۱۹۰۷ء میں قریباً ساڑھے تین صد صفحات ہیں۔اور پھر ریویو آف ریلیجنز جلد ۶ صفحه ۵ تا جلدے نمبر ا تک دوصد صفحات ہیں۔اور پھر رسالہ تفسیر القرآن میں زائد از ڈیڑھ ہزار صفحات میں تفسیر شائع ہوئی۔(ب) رسالہ تعلیم القرآن کے آپ ایڈیٹر تھے۔جلد نمبر ( جولائی ۱۹۰۶ء) کے صفحہ ۳ سے اس کا علم ہوتا ہے۔(ج) رسالہ تفسیر القرآن کے آپ ہی ایڈیٹر تھے۔جس کا علم جلدے نمبر ۲ کے سرورق کے صفحہ ۲ سے ہوتا ہے۔مؤلف