اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 90 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 90

۹۰ کتاب تالیف کی گئی ہے اور اگر وہ یہ حجت پیش کریں کہ یہ کتاب دو برس میں بنائی گئی ہے اور ہمیں بھی دو برس کی مہلت ملے۔تو مشکل ہوگا کہ ہم صفائی سے ان کو ستر دن کا ثبوت دے سکیں۔ان وجوہات سے مناسب سمجھا گیا کہ خدا تعالیٰ سے یہ درخواست کی جائے کہ ایک سادہ قصیدہ بنانے کے لئے روح القدس سے مجھے تائید فرما دے جس میں مباحثہ مت کا ذکر ہو۔تا اس بات کے سمجھنے کے لئے وقت نہ ہو کہ وہ قصیدہ کتنے دن میں تیار کیا گیا ہے۔سو میں نے دعا کی کہ اے خدائے قدیر ! مجھے نشان کے طور پر توفیق دے کہ ایسا قصیدہ بناؤں اور وہ دعا میری منظور ہوگئی اور روح القدس سے ایک خارق عادت مجھے تائید ملی اور وہ قصیدہ پانچ دن میں ہی میں نے ختم کر لیا۔کاش ! اگر کوئی اور شغل مجبور نہ کرتا تو وہ قصیدہ ایک دن ہی میں ختم ہو جاتا۔یہ ایک عظیم الشان نشان ہے جس کے گواہ خود مولوی ثناء اللہ صاحب ہیں۔کیونکہ قصیدہ سے خود ثابت ہے کہ یہ ان کے مباحثہ کے بعد بنایا گیا ہے اور مباحثہ ۲۹ / اور ۳۰ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو ہوا تھا اور ہمارے دوستوں کے واپس آنے پر ۸ نومبر ۱۹۰۲ء کو اس قصیدہ کا بنانا شروع کیا گیا اور ۱۲ نومبر ۱۹۰۲ء کو مع اس اردو عبارت کے ختم ہو چکا تھا۔چونکہ میں یقین دل سے جانتا ہوں کہ خدا کی تائید کا یہ ایک بڑا نشان ہے تا وہ مخالف کو شرمندہ اور لا جواب کرے۔اس لئے میں اس نشان کو دس ہزار روپیہ کے انعام کے ساتھ مولوی ثناء اللہ اور اس کے مددگاروں کے سامنے پیش کرتا ہوں پس اگر اس تاریخ سے کہ یہ قصیدہ اور اردو عبارت ان کے پاس پہنچے چوداں دن تک اسی قدرا شعار بلیغ فصیح جو اس مقدار اور تعداد سے کم نہ ہوں شائع کر دیں تو میں دس ہزار روپیران کو انعام دے دوں گا۔ان کو اختیار ہو گا کہ مولوی محمد حسین صاحب سے مدد لیں یا کسی اور صاحب سے مدد لیں اور نیز اس وجہ سے بھی ان کو کوشش کرنی چاہیئے کہ میرے ایک اشتہار میں پیشگوئی کے طور پر خبر دی گئی ہے کہ اخیر دسمبر ۱۹۰۲ ء تک کوئی خارق عادت نشان ظاہر ہوگا۔انہیں لازم ہے کہ اگر وہ میرے کا روبار کو انسان کا منصوبہ خیال کرتے ہیں تو مقابلہ کر کے اس نشان کو کسی طرح روک دیں۔۔۔۔اس صورت میں مولوی ثناء اللہ صاحب اور ان کے رفیقوں کو ناحق کے افتراؤں کی حاجت نہیں رہے گی اور مفت میں ان کی فتح ہو جائے گی۔۔۔۔اگر میں صادق ہوں اور خدا جانتا ہے کہ میں صادق ہوں تو بھی ممکن نہیں ہو گا کہ مولوی ثناء اللہ اور ان کے تمام مولوی پانچ دن میں ایسا قصیدہ بنا سکیں اور اردو مضمون کارڈ لکھ سکیں کیونکہ خدا تعالیٰ ان کی قلموں کو توڑ دے گا اور ان کے دلوں کو نبی کر دے گا اور مولوی ثناء اللہ کو اس بدگمانی کی طرف راہ نہیں ہے کہ وہ یہ کہے کہ قصیدہ پہلے سے بنا رکھا تھا کیونکہ وہ ذرا آنکھ کھول کر دیکھے کہ مباحثہ مذ کا اس میں ذکر ہے۔پس اگر میں نے پہلے بنایا تھا تب تو انہیں ماننا چاہیئے کہ میں عالم الغیب ہوں۔۔۔اور واضح رہے کہ مولوی ثناء اللہ کے ذریعہ سے عنقریب تین نشان میرے ظاہر ہوں گے۔۔۔اس اردو مضمون اور عربی قصیدہ کے مقابلہ سے عاجز رہ کر جلد تر ان کی روسیا ہی ثابت