اصحاب احمد (جلد 5) — Page 79
(۱۵۰) ۷۹ ง (100) ترکت طریق کرامپ قوم و خُلقهم تو نے شریفوں کے خلق اور طریق کو چھوڑ دیا اور تو هــجـــوت بــمـد عــامـدًا لتحقر نے موضع مد میں قصدا ہماری ہجو کی تا تو تحقیر کرے۔(۱۵۲) (۱۵۲) ترکناک حتی قبل لا يعرف القلي ہم نے تو تجھے چھوڑ دیا تھا یہاں تک کہ تم لوگ کہتے فجئت خصيمًا أيها المستکبر تھے کہ اب کیوں کچھ لکھتے نہیں۔پس تو خود مقابلہ کے لئے آیا ہے اے متکتمر ! (۱۵۳) (۱۵۳) الا ايها الــلــعـــان مالک تھجر اے لعنت کرنے والے تجھے کیا ہو گیا کہ بیہودہ بک وتلعن من هو مرسل ومزقر رہ ہے اور تو اس پر لعنت کر رہا ہے جو خدا کا فرستادہ اور خدا کی طرف سے عزت یافتہ ہے۔(۱۵۴) (۱۵۴) شتمت وماتدرى حقيقة باطني تو نے مجھے گالیاں دیں اور میرا حال تجھے معلوم نہیں وكل امرء من قوله يُستفسر اور ہر ایک انسان اپنے قول سے پوچھا جائے گا۔صبرنا (100) (100) اعلیٰ ست به اذیتنا ہم نے ان گالیوں پر تو صبر کیا جن کے ساتھ تو نے ولكن على ما تفترى لا نصبر ہمارا دل دُکھایا لیکن وہ جو تو نے ہم پر افتراء کیا اس پر (۱۷۳) ہم صبر نہیں کر سکتے۔(۱۷۳) ذكرت بمُةٍ عند بحثک بالهوای تو نے مقام مد میں بحث کرنے کے وقت کہا تھا کہ احاديث والــقــران تلغی و تهجر ہمارے پاس یہ احادیث ہیں اور قرآن کو تو محض نکما اور باطل ٹھہرایا جاتا ہے۔