اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 61 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 61

۶۱ طاعون کے ایام میں آپ کو دار مسیح کے اندر ٹھہرایا گیا۔قدرت اللہ خانصاحب ڈیوڑھی بان معہ اہل وعیال اور آپ ایک ہی حصہ میں رہتے تھے۔حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا (اعـلـى الله درجاتها في الجنة) چاہتی تھیں کہ مولوی صاحب کا رشتہ قدرت اللہ خان کے ہاں ہو جائے۔چونکہ مولوی صاحب کی رائے تھی کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بغیر پوچھے از خود ہی ارشاد فرما ئیں تو مجھے کوئی عذر نہ ہوگا۔اس لئے یہاں رشتہ نہ ہوا۔ایک روز عبد اللہ صاحب عرب کے لئے رشتہ کا ذکر ہورہا تھا۔حضور علیہ السلام نے بعض رشتے نا منظور کئے اور فرمایا ایسا رشتہ ہونا چاہئے جو ظاہری شکل و شباہت میں بھی اچھا ہو مثلاً میاں جیون بٹ صاحب امرتسری کے ہاں۔مولوی صاحب میاں جیون بٹ صاحب سے واقف نہ تھے بلکہ ان کو دیکھا ہوا بھی نہیں تھا۔رمضان میں ڈاکٹر عباد اللہ صاحب امرتسری آکر قادیان میں اعتکاف بیٹھے مولوی صاحب کے دریافت کرنے پر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ عید کے لئے ٹھہرنے کا ارادہ نہیں تھا لیکن میں نے میاں جیون بٹ صاحب کا پیغام حضرت مولوی نورالدین صاحب کو پہنچانا ہے اس لئے ٹھہر نا پڑے گا۔ان کا پیغام یہ ہے کہ میں نے دو سال سے لڑکی کے رشتہ کے لئے لکھا ہوا ہے اس کا خیال رکھیں۔مولوی صاحب نے ہنستے ہوئے کہا کہ آپ دوسروں کا پیغام تو پہنچاتے ہیں لیکن میرا پیغام کسی کو بھی نہیں دیتے۔میری شادی کا کسی جگہ انتظام کیا جائے۔مولوی صاحب کے خیال میں بھی یہ بات نہ تھی کہ آپ کی شادی کے لئے حضرت مولوی صاحب سے ذکر کیا جائے گا۔ماسٹر عبدالرحمن صاحب بی۔اے ( مہر سنگھ ) مرحوم ان دنوں حضرت مولوی صاحب کے پاس رہتے تھے اور طالب علم تھے۔انہوں نے مولوی سرور شاہ صاحب کو مبارکباددی اور دریافت کرنے پر فرمایا کہ حضرت مولوی صاحب نے میاں جیون بٹ صاحب کو خط لکھا ہے کہ آپ کی لڑکی کے لئے مولوی سرورشاہ صاحب کا رشتہ میں پیش کرتا ہوں اگر آپ کو یہ رشتہ منظور نہ ہو تو آپ مجھ سے بالکل نا امید ہوجائیں۔میں پھر آپ کی لڑکی کے لئے کوئی رشتہ تجویز نہیں کرسکتا۔اگر آپ کو یہ رشتہ منظور ہو تو جمعرات کے روز آجائیں۔بابا جیون بٹ صاحب میاں غلام رسول حجام سکندر امرتسر (صحابی ) کے ہمراہ جمعرات کو قادیان آگئے۔میاں غلام رسول بہت مخلص تھے۔انہیں بابا جی نے یتیمی کی حالت میں پرورش کیا تھا۔ظہر کی نماز کے وقت حضرت مولوی صاحب نے حضور سے استصواب کیا اور حضور نے اس رشتہ کی اجازت عنایت کی۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب نے حضور کی موجودگی میں نکاح پڑھا اور بغیر پوچھنے کے دوصد روپیہ مہر مقرر کیا۔حضور بھی دعا میں شریک ہوئے۔