اصحاب احمد (جلد 5) — Page 60
۶۰ آپ کے دادا صاحب کے چچا زاد بھتیجے تھے اور احمدیت کے زمانہ سے قبل ہی فوت ہو چکے تھے۔آپ کی خوشدامن زندہ تھیں۔آپ کے برادر نسبتی سید سرور شاہ صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے۔حضرت مولوی صاحب بیان فرماتے ہیں کہ چونکہ ہمارے خاندان میں خواتین کا نام پکارنے کا رواج نہیں اس لئے بسا اوقات ان کا نام یاد ہی نہیں ہوتا۔چنانچہ مجھے اپنی والدہ صاحبہ اور اہلیہ مرحومہ کا نام معلوم نہیں آپ کی اہلیہ تپ دق سے بیمار ہو گئیں۔انہوں نے وفات سے تین ماہ پیشتر خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا حضور نے فرمایا میں تو چلتے چلتے تھک بھی گیا ہوں اور پھر دریافت فرمایا کہ کیا تم مجھے جانتی ہو اور ساتھ ہی فرمایا کہ میں مسیح موعود ہوں اور پھر میری اہلیہ کو فرمایا کہ بلند آواز سے کہو کہ میں مسیح موعود ہوں اور اسی اثنا میں خواب میں ہی بیعت بھی کی اور بلند آواز کے ارشاد پر میری اہلیہ نے اتنی بلند آواز سے کہا کہ وہ خود بھی اور میں بھی بیدار ہو گیا۔چنانچہ اس خواب کی بنا پر انہوں نے بذریعہ خط بیعت کر لی۔بیماری کے آخر میں موصوفہ کی خواہش کے مطابق مولوی صاحب انہیں ان کی والدہ کے پاس بمقام دانہ چھوڑ آئے۔جہاں وہ دس ماہ کی بچی چھوڑ کر راہی مُلک بقا ہوئیں۔انَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔اس بچی کا عقد پہلے صاحبزادہ میاں عبدائی صاحب ابن حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اسیح اوّل سے اور صاحبزادہ کی وفات کے بعد سید محمود اللہ شاہ صاحب ابن حضرت ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحب سے ہوا۔ان کے بطن سے سید صاحب کے ایک صاحبزادہ محترم سید داؤد مظفر شاہ صاحب سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی فرزندی میں آپ کی صاحبزادی محترمہ سیدہ امتہ احکیم بیگم صاحبہ سے شادی کر کے آچکے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان سے اس گہرے تعلق میں جہاں دوسرے بزرگان کی بزرگی کا حصہ ہے وہاں مرحومہ اہلیہ صاحبہ حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کی نیکی اور طہارت کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام کو خواتین مبارکہ کے دئے جانے کا وعدہ دیا گیا ہے۔چنانچہ ایسی خواتین آپ کے خاندان میں آئی ہیں۔ایسی خواتین کا وعدہ اولا دنرینہ کے متعلق ہونے کا باعث ہیں۔اللہ تعالیٰ نے وفات سے قبل بیعت حضرت اقدس علیہ السلام کے لئے خواب کے ذریعہ مرحومہ کی راہنمائی کی۔وہ قادیان زیارت کے لئے نہ آ سکتی تھیں۔اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کو محرومی سے محفوظ رکھا بلکہ ان کی لڑکی اور نواسے کو اپنے فضل خاص سے نوازا۔فالحمد للہ علی ذالک دوسری شادی کے لئے تحریک اہلیہ موصوفہ کی وفات کے بعد آپ پشاور سے قادیان ہجرت کر آئے تھے۔قیام قادیان میں ایک دفعہ