اصحاب احمد (جلد 5) — Page 57
۵۷ مقدمہ میں دخل نہ دیں۔تو والد صاحب نے وعدہ کیا کہ میں اس کی تائید میں کھڑا نہ ہوں گا لیکن احمدیت سے اتنا بغض رکھنے والے شخص کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور مولوی صاحب کی دعائیں اپنے والد صاحب کے حق میں قبول فرمائیں۔چنانچہ اس امر کا ذکر پہلے آچکا ہے کہ انہوں نے احمدیت قبول فرمالی تھی اور ان کا احمدیت قبول فرمانا بھی ایک قسم کے معجزہ کا رنگ رکھتا تھا۔قادیان میں ہجرت ایبٹ آباد میں آپ جامع مسجد کے مدرسہ میں پڑھاتے تھے اور پچیس روپے اور کھانا معاوضہ ملتا تھا لیکن جب آپ پشاور میں آگئے تو مشن کالج سے ایک سور و پیہ اور پادری ڈے سے اسی روپے ماہوار یعنی کل ایک سو اسی روپے ملتے تھے ( پادری ڈے نے چالیس روپے ماہوار ایک گھنٹہ کا مشاہرہ مقرر کیا تھا لیکن عملاً وہ ہمیشہ اسی روپے دیتا رہا) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اجازت سے غالباً ۱۹۰۱ء میں آپ قادیان آگئے۔اب آپ کا کوئی ذریعہ آمد نہ تھا جیسا کہ سابقاً ذکر ہو چکا ہے طالب علمی کے زمانہ میں بھی آپ نے والد صاحب سے کبھی کوئی مطالبہ نہ کیا تھا۔اب آپ مہمان خانہ میں رہتے تھے اور وہیں سے کھانا کھاتے تھے۔جب تعلیم سے فارغ ہو کر آپ وطن آئے تھے تو والدین اور ماموں کو افیون کا عادی دیکھ کر آپ کو بھی عادت ہوگئی تھی لیکن اب قادیان میں ایک طرف آپ کے پاس کوئی روپیہ نہ تھا۔دوسرے حضور نے ذکر فرمایا تھا کہ ہمارے دوستوں کو نشہ آور اشیاء سے پر ہیز کرنا چاہیئے۔اس لئے آپ نے ایک دفعہ اس عادت کو ترک کر دیا۔پہلے تین دن تو ایسی حالت رہی کہ آپ میں اور مُردہ میں کوئی فرق نہ تھا۔پھر اس کے بعد چالیس دن تک سخت تکلیف اٹھائی کی سفر کشمیر اسی اثناء میں آپ کے پھوپھی زاد بھائی سید سرور شاہ صاحب کا حضور کی خدمت میں خط آیا کہ میری پہلی کس کس سنہ میں آپ کی بیعت، ہجرت اور شادی ہوئی اس کے متعلق ابھی بعض امور قابل تحقیق ہیں۔امید ہے اس بارہ میں ایک مفید و مفصل نوٹ کتاب کے آخر میں دے سکوں گا۔مؤلف اس امر کی تصدیق حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی بھی کرتے ہیں۔نیز غالباً تتذکرۃ المہدی صفحہ پر بھی اس کا ذکر ہے۔مؤلف