اصحاب احمد (جلد 5) — Page 55
دیں تو میں ہمیشہ کے واسطے حضور کی خدمت میں رہنے کے لئے تیار ہوں۔اس پر حضور نے فرمایا کہ اس وقت آپ کا رہنا مناسب نہیں۔کیونکہ آپ پادریوں کے پاس ملازم ہیں اور وہ لوگ ہمارے دشمن ہیں۔جب انہیں معلوم ہوگا کہ آپ ہمارے پاس رہ گئے ہیں تو وہ آپ پر کوئی مقدمہ بنا دیں گے۔اس لئے سر دست آپ چلے جائیں اور پھر آٹھ نو ماہ کی رخصت لے کر آجائیں۔اس پر آپ رخصت ہوئے۔ایک مخالف کی یک طرفہ بددعا اور اس کا عبرتناک انجام قادیان ہجرت کر آنے سے قبل کا واقعہ ہے کہ آپ گھوڑی گئے ہوئے تھے کہ وہاں ایک مولوی سے وفات عیسی کے مسئلہ پر مباحثہ ہوا۔اس میں علاقہ کے سلطان محمد خان جو آپ کے ماموں تھے اور موجودہ احمدی سلطان کے والد تھے، وہ بھی شامل ہوئے۔دورانِ مباحثہ وہاں کی مسجد کے امام حافظ نے مباہلہ پر آمادگی کا اظہار کیا۔حضرت مولوی صاحب نے کہا کہ مباہلہ کے لئے ہمیں حضور سے اجازت حاصل کرنی ہوتی ہے۔اس لئے اس وقت تک میں مباہلہ سے معذور ہوں لیکن حافظ جوش میں اس قد را ندھا ہو رہا تھا کہ وہ اٹھا اور اس نے مباہلہ کے رنگ میں دعا کی۔حضرت مولوی صاحب نے فوراً کہا کہ گو حافظ صاحب کے ساتھ میں نے مباہلہ نہیں کیا لیکن اس کی طرف سے یک طرفہ دعا ہو گئی ہے۔چنانچہ حافظ صاحب کی بات پر سلطان صاحب کے بچوں نے مخول کیا وہ کئیوں والے پیر کا مرید تھا جو دراوہ ضلع مظفر آباد میں رہتا تھا۔اس نے کہا کہ میں ابھی اپنے پیر کے پاس جاتا ہوں۔سب کام ٹھیک ہو جائے گا۔چنانچہ وہ گھوڑے پر بمعہ اپنی بیوی کے روانہ ہوا۔پہاڑوں کے اوٹ میں بعض ایسے مقامات ہوتے ہیں کہ جہاں سارا یا اکثر حصہ سال کا برف جمی رہتی ہے۔چنانچہ راستہ میں پہاڑ کا ایک ایسا حصہ تھا کہ جہاں چھ ماہ برف جمی رہتی تھی۔جب وہاں سے گذرنے لگا تو فالج ہوا اور گھوڑے سے گر پڑا۔بیوی اکیلی کیا کر سکتی تھی۔اس نے اسے راستہ سے ایک طرف کر دیا اور قریب ہی اس کا گاؤں تھا وہاں پہنچی لیکن صبح کو جب لوگ واپس آئے تو دیکھا کہ حافظ ندارد۔اس کی لاش جنگلی جانور ہڑپ کر چکے تھے۔آپ کے قتل کا منصو بہ اور الہی انتقام اسی طرح آپ کے ہجرت کر کے قادیان آنے سے قبل کا ایک اور واقعہ ہے۔جس سے ظاہر ہوگا کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے اپنے بندوں کی غیر معمولی اسباب سے نصرت و حفاظت فرماتا ہے۔وہ واقعہ یہ ہے کہ