اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 662 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 662

۶۶۹ میں کام ہوا تھا اس لیے دیوار میں کچھ ٹیڑھی بنی تھیں۔کچھ اینٹوں سے جو بہت لمبی چوڑی تھیں موٹی موٹی دیوار میں تعمیر ہوئیں۔ہم طلباء معماروں کو اینٹیں گارا وغیرہ دیتے تھے۔اگلے روز مدرسہ میں تعطیل کر دی گئی تا طلباء آرام کر سکیں۔بورڈ رران کی تعداد زیادہ ہو جانے کی وجہ سے یہ کمرہ ان کے لئے تعمیر ہوکر بطور حصہ بورڈنگ استعمال ہونے لگا۔بیان بھائی صاحب ) دو دو معماروں کی جوڑی نے نصف نصف رات کام کیا تھا۔اس رات چھت تک کام ہوا تھا چھت کی تعمیر اور لمبائی کے کام بعد میں چند روز کے اندر دن کے وقت مکمل کئے گئے تھے۔مرزا نظام الدین صاحب نے سفر سے واپس آکر کمرہ نو تعمیر شدہ دیکھا تو سخت برافروختہ ہوئے لیکن تعمیر شدہ مکان کو گراتے تو فوجداری بن جاتی اس لئے کچھ نہ کر سکے۔یہ کمرہ اب بھی اسی طول و عرض میں موجود ہے۔خلافت ثانیہ میں حضرت میر محمد الحق صاحب نے اپنے ہیڈ ماسٹری کے زمانہ میں کچھ حصہ غلافی بنوادیا تھا۔(از مؤلف ) یہ کمر ۱۹۰۴ تا ۱۹۰۶ ء کے عرصہ میں کسی وقت تعمیر ہوا ہوگا۔کیونکہ مولوی صاحب کا تعلیم کے لئے ۱۹۰۴ء میں آنا اور ڈاکٹر صاحب کا ۱۹۰۶ء تک قادیان میں تعلیم پانا اور ۱۹۰۶ء میں لا ہور تعلیم کے لئے جانا ثابت ہے اور ہر دو اس کی تعمیر میں شریک طالبعلموں میں شامل تھے۔پیمائش شرقا غربا ( اندر سے) سوا چھبیس فٹ شمالاً جنوبا (اندر سے ) ساڑھے ستائیس فٹ۔اس وقت اس کی مشرقی اور شمالی دیواریں پکی ہیں۔دیگر دونوں کچی ہیں اور اصلی حالت میں ہیں۔کولے بھی موجود ہیں۔( کمرہ نمبر ۵) عبدالاحد خاں صاحب افغان درویش جو تابعی ہیں بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت سید عبدالستار صاحب المعروف بزرگ صاحب نے بتایا تھا کہ جب حضرت سید عبداللطیف صاحب شہید قادیان آئے تو آپ کے رفقاء کے قیام کے لئے حضرت مسیح موعود نے یہ کمرہ دیا تھا یا بنوایا تھا دونوں میں سے ایک بات بزرگ صاحب نے بتائی تھی۔میں اس کمرہ میں حضرت خلیفہ اول کی وفات سے دو تین سال قبل سے اس وقت تک مقیم ہوں۔اس وقت بھی اسی طرح اس کی جنوبی دیوار میں دو دروازے تھے۔پیمائش۔شرقاغر با اندر سے ) سوا چودہ فٹ۔شمالاً جنوباً ( اندر سے ) پونے دس فٹ۔اس وقت اس کی صرف جنوبی دیوار پختہ ہے بقیہ تینوں خام ہیں۔(4) ) بیان بھائی محمود احمد صاحب۔حضرت بزرگ صاحب موصوف حضرت اقدس کے زمانہ سے کمرہ نمبر 4 میں مقیم تھے۔جس کے جنوب کی طرف صحن تھا اور یہ محن بھی حضور کے زمانہ میں بنایا گیا تھا اور اب مہمان خانہ کے احاطہ اور گذرگاہ کا حصہ بن چکا ہے۔