اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 643 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 643

۶۴۹ بھی دیکھ لیویں یہاں تک کہ عذاب الیم کو مشاہدہ کر لیویں ) ہاں ایک تو اس قاعدہ سے خداوند کریم نے یونس کی قوم کو مستثنیٰ کیا ہے۔دوسرا یہ فرق ہے کہ پہلے دن کے بعد تو کوئی ایمان لاتا نہیں پر قوم یونس کی طرح اگر کوئی ایمان لے آئے تو وہ قبول ہو سکتا ہے۔اور دوسرے دن ایمان تو عموماً لاتے ہیں پر اس دن ایمان ہرگز قبول نہیں ہوتا۔جیسا کہ ان دونوں باتوں کو مذکورہ بالا آخری آیت کے بعد سورۃ یونس میں خداوند تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے۔کہ فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيْمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ ۱۰۰ (پس کیوں کوئی ایسی بستی نہ ہوئی جو ایمان لاتی ( فرد جرم کے بعد ) پھر اس کو ایمان نفع بھی دیتا بجز یونس کی قوم کے ) پس وَاتَّقُوا يَوْمًا کو وَاتَّقُوا عَذَابَ يَوْم اس لئے اختیار فرمایا ہے کہ اگر عذاب یوم فرما تا تو خاص عذاب سے بچنا مفہوم ہوتا اور ان کی تاریخ بازی کی گنجائش رہتی لیکن جب وَاتَّقُوا يَوْمًا فرمایا تو دونوں دنوں کو شامل ہو گیا۔گویا ان کو یہ فرمایا کہ عذاب کے دن سے بچو جس کے بعد بھی یہ امور ہر گز کام نہ آئیں گے۔پس جہان تک ہو سکے ان شرارتوں کے چھوڑنے اور حق کو تسلیم میں جلدی کرو تا کہ ایسا نہ ہو کہ فرد جرم لگ جائے اور پھر توبہ کی تو فیق چھن جائے۔“ وَإِذْ وَا عَدْنَا مُوسَى اَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ اتَّخَذُ تُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهِ وَانْتُمْ ظَلِمُونَ - (البقرہ ع۶) کی تفسیر میں آپ لکھتے ہیں۔دو واعدنا مواعدة سے ہے اور مواعدہ، وعدہ سے ہے جس کے معنے وعدہ کرنے کے ہیں اور مواعدہ کے معنے اصل میں ہیں ایک دوسرے سے بالمقابل وعدہ کرنے کے۔پس اس کے مطابق واعدنا موسیٰ کے معنے ہونے چاہئے ہم نے موسیٰ سے اور موسیٰ نے ہم سے وعدہ کیا پر مفسرین کو چونکہ یہاں پر خداوند کریم کا ہی وعدہ معلوم ہوا اور حضرت موسیٰ کی طرف سے کوئی وعدہ معلوم نہ ہوا۔لہذا ان کو اس کا اصل معنوں میں استعمال کرنا مشکل معلوم ہوا۔پس بعض نے تو کہا کہ واعدنا یہاں پر بمعنے وعدنا ہے یعنی ایک ہی طرف سے وعدہ کرنے پر دلالت کرتا ہے۔اور بعض نے کہا کہ یہ ہے تو اصلی معنوں میں یعنی دونوں طرف سے ہونے پر دلالت کرتا ہے۔لیکن بمعنے وعدہ نہیں کہ دونوں طرف سے یہاں پر نہ ہو سکے۔بلکہ بمعنے ملاقات ہے جو کہ ضرور ہی دونوں طرف سے ہوا کرتی ہے جیسا کہ موعدک میں یہ معنے اکثر لئے جاتے ہیں۔پس اس صورت میں واعدنا کے معنے ہوں گے کہ ہم نے موسیٰ اور اس نے ہم سے ملاقات کی یا مقرر کی۔اور بعض نے کہا کہ جس طرح ایسے لفظ کے یہ اصل معنے ہیں کہ دونوں طرف سے فعل ہو۔اسی طرح یہ بھی اصل معنے ہیں کہ ایک طرف سے فعل ہو اور دوسری طرف سے اس کا قبول کرنا ہو۔جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ عالجت المريض ( میں نے مریض کا علاج کیا اور اس نے اس کو قبول کیا۔اور اس سے متاثر ہوا تو اس صورت میں یہاں پر یہ معنے ہوں گے کہ ہم نے موسیٰ سے وعدہ کیا اور اس نے اس کو قبول کیا۔لیکن جہاں تک میں نے سوچا ہے۔اول تو قبول وعدہ عموماً فریق ثانی