اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 633 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 633

۶۳۹ خداوند کریم نے لوگوں کی ہمت اس کی کسی سورۃ کی مثل لانے سے پھیر دی ہے۔اور یہ ایک عظیم الشان اعجاز ہے کہ مثل لانی تو انسانی اقتدار میں ہے پر کوئی لائے گا نہیں۔لیکن پہلے پانچ اقوال پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ یہ امور سب کی سب سورتوں میں نہیں۔اور یہ تحدی ملکہ میں بھی کی گئی ہے حالانکہ مکہ میں تا شیر بلیغ کا نام ونشان تک نہ تھا۔اور ساتویں قول پر یوں اعتراض کیا ہے کہ قرآن مجید نے مثل کو عام اور مطلق رکھا ہے کسی قید کے ساتھ مقید نہیں کیا۔اور فصاحت و بلاغت میں مثل مانگنا ان دو سے از خود مقید کرنا ہے جو کہ جائز نہیں ہے۔۔کمالات کلام قرآن محمد سرور۔میرا اپنا ذاتی خیال یہ ہے کہ جس قدر ان اقوال میں امور آئے ہیں جیسا فصیح و بلیغ ہونا، تاثیر بلیغ اور اخبار غیب اور جوامع الکلم وغیرہ پر مشتمل ہونا۔یہ سب قرآن کے منجملہ کمالات میں سے ہیں۔اور ان کے علاوہ اور بہت سے ہیں اور ایسا تو نہیں ہے کہ ہر ایک آیت اور ہر ایک سورۃ میں وہ سب کے سب کمالات جمع کئے گئے ہوں لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ کوئی سورۃ ان کے معتد بہ مجموعہ سے خالی ہو بلکہ ہر ایک سورۃ میں ان کمالات سے اس قدر ضر ور جمع ہوتے ہیں کہ انسانی طاقت سے باہر ہے۔اور ہرگز اس کی وسعت میں نہیں ہے کہ وہ اپنے کلام میں اس مقدار اور کیفیت کے وہ کمالات نبھا سکے۔اور قرآن مجید کی بہت سی آیات سے صاف صاف ثابت ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی ذات میں کوئی ایسے کمالات ہیں کہ جن کی مثل انسان اپنے کلام میں لانے سے بالکل عاجز ہے نہ یہ کہ اس کی مثل کالا نا اس کی قدرت میں تو ہے اور وہ لاسکتا ہے لیکن خداوند کریم اس کو یونہی روک دیتا ہے۔اور اس کی ہمت کو پھیر دیتا ہے یا ارادہ کرتے ہی اس کو ہلاک کر دیتا ہے یا انسان جانتا ہے کہ اگر میں نے اس کی مثل بنائی تو ضرور تباہ ہو جاؤں گا۔پس اس خوف سے مثل بنانے کا ارادہ ہی نہیں کرتا۔جیسا کہ سورہ یونس میں فرمایا ہے۔وَ مَا كَانَ هَذَا الْقُرْآنُ أَنْ يُفْتَرَى مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَكِنْ تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ الْكِتبِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِنْ رَّبِّ الْعَلَمِینَ ۹۳ اور قرآن مجید کی شان سے نہیں ہے کہ وہ افترا کیا جائے اللہ کے غیر سے لیکن وہ تصدیق ہے اس کی جو اس سے پہلے ہے اور اس کتاب کی تفصیل ہے اس میں شک نہیں یہ رب العالمین کی طرف سے ہے ) پس آیت کریمہ میں صاف صاف بتا دیا ہے کہ دوسرا کوئی قرآن بنا سکتا ہی نہیں نہ یہ کہ بنا تو وہ سکتا ہے لیکن ہم نہ بنانے دیں گے یا بنا تو وہ سکتا ہے پر اس کا ارادہ کرتے ہی ہم اس کو تباہ کر دیں گے پھر آگے بعض ان کمالات کا بھی اظہار کیا ہے کہ جن کے باعث دوسرا نہیں بنا سکتا۔اور وہ یہ بتائے ہیں کہ یہ پہلی کتابوں کا مصدق ہے کہ حق کو حق اور باطل کو باطل قرار دیتا ہے۔اور پھر مفصل الکتاب ہے پھر ربوبیت عامہ کے آثار اس قدر اس میں موجود ہیں جن کے باعث اس کے