اصحاب احمد (جلد 5) — Page 634
۶۴۰ منجانب رب العالمین ہونے میں ذرہ بھر بھی شک نہیں ہے۔پھر سورہ ہود میں فرمایا ہے۔آمَ يَقُولُونَ افْتَرلَهُ ط قُلْ فَا تُوْا بِعَشْرٍ سُوَرٍ مِثْلِهِ مُفْتَرَيْتٍ وَّادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَدِقِينَ فَإِنَّمَ يَسْتَجِيبُوا لَكُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا أُنْزِلَ بِعِلْمِ اللهِ وَ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ۹۴۔یہاں سے بھی صاف یہی ثابت ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں ایسے امور ہیں جن کے انسانی طاقت سے بالا ہونے کے باعث کوئی انسان اس کی مثل نہیں لاسکتا۔جیسا کہ فَإِنْ لَّمْ يَسْتَجِيْبُوا لَكُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا أُنْزِلَ بِعِلْمِ اللَّهِ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مخالفوں کے سب مددگار اس کی مثل لانے سے بالکل عاجز ہیں اور اس عجز کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں علوم الہیہ کے انواع واقسام بھرے پڑے ہیں۔اور چونکہ انسانوں کا علم خدا کے علم کے برابر ہرگز نہیں ہوسکتا۔لہذا کوئی انسان اس کتاب کی مثل بھی نہیں بنا سکتا جو کہ علوم الہیہ پرمشتمل ہو۔پس خلاصہ مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید میں بہت سے ایسے امور ہیں کہ سب کے سب کو کوئی انسان اپنے کلام میں نہیں لاسکتا۔اور بعض ایسے بھی ہیں کہ ان میں سے ایک کو بھی کوئی انسان اپنے کلام میں نہیں لا سکتا۔جیسے اخبار غیب اور قدرت مطلقہ اور لوازم ربوبیت وغیرہ اور کچھ ایسے ہیں کہ ایک حد تک تو انسان ان کو اپنی تقریر و تحریر میں لاسکتا ہے۔لیکن اس سے آگے ان کے وہ مراتب بھی ہیں کہ وہ عادتا انسان کی طاقت سے بالا ہوتے ہیں۔اور بعض اگر چہا کیلے اکیلے تو انسان کی مقدرت میں ہوتے ہیں لیکن جب ان میں سے چندمل جاتے ہیں تو پھر انسان کی مقدرت سے برتر ہو جاتے ہیں۔اور قرآن مجید میں یہ سب اقسام موجود ہیں۔لہذا اس کی ہر ایک سورۃ کی مثل لانے سے انسان عاجز ہے۔اور جہاں تک میں نے غور کیا ہے مجھے قرآن مجید میں کوئی ایسی آیت نہیں ملی جس سے اس بات کا اشارہ تک بھی نکلتا ہو کہ انسان قرآن مجید کی مثل یا کسی سورۃ کی مثل تو بنا سکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کی ہمت پھیر دے گا تا کہ وہ نہ بنا ئیں یا یہ کہ بنانے کا ارادہ کرتے ہی ان کو ہلاک کر دے گا یا مثل بنانے کے بعد ان کو ہلاک کر دے گا۔بلکہ جہاں پایا ہے تو یہی کہ قرآن مجید کی مثل بنانا کسی انسان کی مقدرت اور طاقت میں ہے ہی نہیں۔رہا یہ کہ کیوں نہیں تو اس کا جواب بھی قرآن مجید سے جو کچھ مجھے معلوم ہوا ہے پہلے عرض کر چکا ہوں جس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید چونکہ علوم الہیہ اور لوازم ربوبیت عامہ اور آثار قدرت مطلقہ پر مشتمل ہونے کے باعث بہت سی ایسی خصوصیات کا جامع ہے کہ بعض ان میں سے اکیلی اکیلی اور بعض دوسروں کے ساتھ مل کر انسان کی مقدرت سے باہر ہوتا ہے کہ ان کو اپنے اپنے کلام میں لا سکے۔لہذا کوئی اس کی مثل نہیں لاسکتا اور چونکہ قرآن مجید کی ہر ایک سورۃ کچھ نہ کچھ ایسی خصوصیات پر مشتمل ہوتی ہے جو کہ انسانی قدرت سے باہر ہوتی ہیں۔لہذا کسی صورت کی مثل بھی نہیں بن سکتی۔یہ دلیل حقیقت میں بہت عظیم الشان اور بڑا بھاری معجزہ ہے کہ چودھویں صدی جارہی ہے اور اس طول