اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 613 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 613

۶۱۹ اقتباسات تفسیر القرآن حضرت مولوی صاحب کا تجر علم سامنے لانے کے لئے آپ کی تفسیر سے کچھ اقتباسات بطور نمونہ ہدیۂ ناظرین کئے جاتے ہیں۔آپ کی تمام تفسیر ہی احمدیت کی برکت سے موتیوں کی لڑی ہے۔مطالعہ سے احباب یقین کریں گے کہ حضرت مولوی صاحب کو لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ۱۴ کے مطابق فیضان اور کلام الہی پر عبور حاصل ہوا تھا۔خاکسار نے عنوانات بھی قائم کر دئے ہیں۔جو پہلے ہی متقی ہیں ان کے لئے ہدایت دعوت عالمہ نہ رہی ا هُدًى لِلْمُتَّقِینَ کی تفسیر میں آپ تحریر فرماتے ہیں۔-1 یہاں پر بعض نے اعتراض کیا ہے کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن مجید خاص متقیوں ہی کے لئے ہدایت ہے نہ اوروں کے لئے۔اور اس میں دو نقص ہیں اول یہ کہ اس کی دعوت عامہ نہ رہ گئی۔حالانکہ اہل اسلام عموم کے مدعی ہیں اور دوم یہ کہ اس میں تحصیل حاصل لازم آتی ہے۔اس لئے اس کا مفہوم یہ ہوا کہ۔۔۔۔ہدایت بھی اس نے انہی امور کی کرنی ہوئی جو کہ تقویٰ میں داخل ہیں مثل ایمان اور اعمال صالح اور اطلاق فاضلہ کے جو کہ متقی کو پہلے سے حاصل ہیں۔۔۔مفسرین کا ایک جواب اس اعتراض کے جواب میں مفسرین نے دوراہیں اختیار کی ہیں۔ایک یہ کہ متقی کے معنوں میں تغیر کیا جائے اور دوم یہ کہ تخصیص کو اڑا کر عموم ہی قائم رکھا جائے اور جو تخصیص بظاہر معلوم ہوتی ہے اس کی بناء کسی اور وجہ پر رکھی جائے۔اول کی تفصیل یہ ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ متقی کے دو معنی ہیں۔اول یہ کہ وہ متقی بن چکا ہو یعنی متقی کی صفات اس میں موجود ہو چکی ہوں اور اس نے شرک و کفر اور ہر ایک قسم کی بدی سے اجتناب اور اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ پر استقامت کر لی ہو۔دوم یہ کہ وہ خوف خدا رکھتا ہے۔اور بمعنی مذکور متقی بننا چاہتا ہے، پرابھی راستہ نہ ملنے اور علم نہ ہونے یا کسی اور وجہ سے بنا نہیں۔پس یہ بھی ایک معنوں میں متقی ہوتا ہے۔جیسا کہ جو شخص سفر میں چلا جاتا ہے وہ تو ضرور مسافر کہلانے کا مستحق ہوتا ہے لیکن جو شخص سفر کا مصمم ارادہ رکھتا ہے