اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 605 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 605

۶۱۱ ہمارے لئے حلال ہے خواہ ہم نے اس کو ذبح کیا ہو یا پہلے ہی مر گیا ہو۔اسی طرح احادیث میں تیر کمان کے ساتھ ذکر آیا ہوا ہے۔پس اس پر قیاس کر کے گولی کے شکار کو بھی حلال بیان کیا گیا ہے۔اور یہ صرف فتویٰ احمد یہ ہی نہیں بلکہ ان فقہ کی کتب میں بھی ہے جو کہ بندوقوں کے زمانہ میں بھی لکھی گئی ہیں۔مثلاً شامی شرح در المختار جوٹر کی کے ایک بڑے فاضل کی تصنیف ہے جو اس وقت مشرق و مغرب کے حنفی علماء کی مستند کتاب ہے اس میں بھی اس مسئلہ کو بالوضاحت لکھا ہے۔(۳۷-۱۱-۱۶) ۵۰- بابت رہن استفتاء - (از نظارت تعلیم وتربیت) جماعت کے لوگ عموماً رہن کر کے خود ہی کرایہ دار ہوتے ہیں اور کرایہ مکان کی حیثیت کو مد نظر رکھ کر مقرر نہیں کیا جاتا بلکہ روپیہ کی مقدار پر ہوتا ہے۔جو شرعاً جائز نہیں۔اگر وہی مکان را ہن سے لے کر کسی دوسرے کو کرایہ کے طور پر دیا جاوے تو شاید مقررہ کرایہ کا تیسرا حصہ بھی نہ ملے اس بارہ میں فتوئی مطلوب ہے۔فتوی: حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں یہی ہم سنتے رہے ہیں۔اور یہی فتویٰ دیتے رہے کہ رہن سے نفع اٹھانا اس صورت میں جائز ہے کہ جب مرتہن اس پر قبضہ کرے۔کیونکہ قبضہ کرنے کی صورت میں اس کی معمولی مرمت یا زمین ہو تو اس کی تیاری اور مالیہ پر کچھ خرچ کرنا پڑے گا۔تو اس کے عوض ہی نفع اٹھا سکے گا۔اور ساتھ ہی یہ بھی سنتے رہے ہیں۔اور اس کے مطابق فتویٰ بھی دیتے رہے ہیں کہ مرتہن کو اگر راہن قبضہ نہ دے بلکہ خود ہی قابض رہے تو پھر نفع اٹھانا جائز نہیں کیونکہ اس صورت کے بموجب اس پر خرچ کرنا راہن کا کام ہے نہ کہ مرتہن کا۔اور جبکہ مرتہن کا اس پر خرچ نہیں۔اب اگر یہ اس قرض کی وجہ سے ) نفع اٹھائے گا جو اس نے راہن کو دیا ہوا ہے۔اور رہن کے بدلہ میں نفع اٹھانا سود ہے اور یہی سود کی تعریف ہے۔(۳۸-۰۴-۰۳) -۵۱ کیا نماز میں امام ادعیہ ماثورہ کے سوا دعائیں بآواز بلند پڑھ سکتا ہے سوال: کیا ادعیہ ماثورہ کے علاوہ امام نماز کے اندر اپنی زبان میں بلند آواز سے دعائیں کر سکتا ہے؟ جواب: حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ فرض نماز میں امام اونچی آواز سے اردو میں دعا کر سکتا ہے یا نہیں فرمایا اس طریق کو میری طبیعت نہیں مانتی اس موقع پر مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فتوی ہے کہ اس طرح دعا کرنا جائز نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فتویٰ حسب ذیل ہے۔