اصحاب احمد (جلد 5) — Page 37
۳۷ مباحثه مابین حضرت مولوی نورالدین صاحب و مولوی محمد حسین بٹالوی اسی طرح ایک دن آپ کو حضرت مولوی صاحب کے مسجد چینیاں والی میں آنے کی اطلاع ملی حضرت مولوی صاحب نماز عصر کی جماعت ہو جانے کے بعد پہنچے تھے اور حوض پر وضو کر رہے تھے کہ مولوی سرورشاہ صاحب بھی وہاں پہنچے اور مولوی محمد حسین بٹالوی بھی وہاں آگئے اور آتے ہی کہا کہ مولوی صاحب ! آپ نے بہت غلطی کی ہے کہ مرزے کی بیعت کرلی ہے۔حضرت مولوی صاحب نے کہا کہ میں نے غلطی نہیں کی۔میں نے سوچ سمجھ کر اور خوب غور کر کے اور اسے حق پا کر بیعت کی ہے۔مگر مولوی محمد حسین بار بار اسی بات کو دوہراتے تھے کہ آپ نے غلطی کی ہے اور اسی تکرار میں ان کا پارہ بھی تیز ہوتا جاتا تھا۔پہلے وہ مولوی صاحب کہہ کر خطاب کرتے تھے پھر حکیم جی کہنے لگے اور پھر تو کہنے پر اتر آئے اور آخر میں کہا کہ میرے ساتھ مباحثہ کر لو۔آپ نے کہا بہت اچھا۔کہاں پر ؟ مولوی محمد حسین نے کہا کہ جس جگہ آپ اُترے ہوئے ہیں یعنی مرزا امیر الدین کے مکان پر۔آپ نے پوچھا کس وقت ؟ مولوی صاحب نے کہا صبح سویرے۔چنانچہ صبح کی نماز پڑھتے ہی مولوی سرور شاہ صاحب مرزا صاحب کی بیٹھک میں پہنچ گئے اور مولوی محمد حسین کے آتے ہی مباحثہ شروع ہو گیا۔مولوی محمد حسین نے چوبیس اصول نوٹ کر رکھے تھے اور وہ قریباً ایسے ہی تھے کہ ایک کو مان لو تو دوسرا خود ہی ماننا پڑتا تھا مثلاً یہ کہ حقیقت و مجاز کا جہاں احتمال ہو تو جب تک حقیقی معنے متعذر نہ ہوں اس وقت تک وہی لینے چاہئیں۔اب اگر اسے مان لیں تو بہت سی احادیث اور آیات کے معنے کرنے میں ضرور دقت پیش آتی ہے۔ہر ایک اصل کی دلیل دریافت کرنے پر مولوی محمد حسین قرآن مجید یا کوئی حدیث پیش نہ کر سکے اور ہر اصل پر یہی کہتے کہ اچھا آگے چلو مگر یہاں بھی یہی حال ہوتا تھا۔چوتھی اصل حقیقت و مجاز والی تھی۔اس پر بھی ان کا یہی جواب تھا۔حضرت مولوی صاحب نے کہا مجھے تعجب ہے کہ آپ اہل حدیث کہلاتے ہوئے پھر جو بات پیش کرتے ہیں اس کی نسبت حدیث سے کوئی ثبوت پیش نہیں کرتے۔حقیقت و مجاز کے متعلق آپ قاعدہ پیش کرتے ہیں۔کیا کسی حدیث سے آپ حقیقت و مجاز کا لفظ بھی بتا سکتے ہیں یا ان کی نسبت بعض مولویوں نے جو قاعدہ گھڑا ہوا ہے کیا اس کا ذکر حدیث سے بتا سکتے ہیں؟ اسی چوتھے اصل پر بحث ہو رہی تھی کہ بارہ بج گئے۔مرزا صاحب کا نوکر بار بار آ کر کہتا تھا کہ کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے کھا لیں۔مگر حضرت مولوی صاحب کی توجہ اس طرف تھی۔آخر مرزا صاحب نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا کہ مولوی صاحب بحث تو ہوتی رہے گی۔آپ کھانا کھالیں اور بالا خانے میں لے گئے۔مولوی محمد حسین کے پوچھنے پر کہ بحث پھر کس وقت ہو گی۔آپ نے کہا کہ جس وقت آپ آجائیں۔مولوی محمد حسین نے کہا کہ پھر دو بجے بحث شروع ہوگی۔آپ نے کہا بہت اچھا۔