اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 38 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 38

۳۸ حضرت مولوی صاحب کا سفر لدھیانہ اور مباحثہ لدھیانہ مجلس تو برخواست ہوئی لیکن مولوی سرور شاہ صاحب وہیں بیٹھے رہے اور آپ کی موجودگی میں ایک تار مہا راجہ جموں کے سیکرٹری کا آیا کہ مہاراج کی طبیعت علیل ہوگئی ہے۔وہ آپ کو یاد کرتے ہیں۔آپ فوراوا پس آجائیں مگر حضرت مولوی صاحب نے مرزا امیر الدین کو کہا کہ میں تو حضرت مرزا صاحب کی ملاقات کے لئے آیا ہوں۔جب تک حضور سے نہ ملوں واپس نہیں جاؤں گا۔حضرت صاحب لدھیانہ میں ہیں۔میں لدھیانہ جاؤں گا اور پہلی گاڑی میں واپس آ جاؤں گا۔چنانچہ ٹانگہ منگوا لیا تھا۔آپ بہت جلد اترے اور ایک بجے کی گاڑی سے لدھیانہ روانہ ہو گئے۔مولوی محمد حسین ڈیڑھ بجے سے بھی پہلے واپس آئے اور بازار میں ہی کھڑے ہو کر پوچھا کہ مرزے کا حواری کہاں گیا ؟ انہیں بتایا گیا کہ ایسا تار آیا تھا۔اس کی وجہ سے وہ چلے گئے ہیں مگر انہیں پرا پیگینڈا کا خوب موقع مل گیا۔اس زمانہ میں لاہور میں ان کا اثر بھی بہت تھا۔وہ بازار میں کھڑے ہو گئے اور جوسواری ، ٹانگہ، فٹن، یکہ آتا اسے روک لیتے کہ ٹھہرو، اسٹیشن پر جاتے ہیں۔مرزے کا حواری بھاگ گیا ہے اس کو پکڑنا ہے۔چنانچہ پرانی کو توالی سے لے کر ڈبی بازار کے انتہا تک دو قطاروں میں سواریاں کھڑی تھیں۔راستہ بند ہو گیا تھا۔ہر سواری کو کھڑا ہونا پڑتا تھا اور مولوی محمد حسین برابر پکار رہے تھے کہ مرزے کا حواری بھاگ گیا۔چلو اس کو پکڑتے ہیں۔کوئی ایک گھنٹہ یہ سلسلہ جاری رہا۔اڑھائی بجے کے قریب یہ قافلہ اسٹیشن کی طرف چلا اور راستہ میں بھی مولوی صاحب اور ان کے ساتھی یہ شور کرتے جاتے تھے کہ مرزے کا حواری بھاگ گیا ہے اسے پکڑنے چلے ہیں اور اسٹیشن پر جا کر مولوی صاحب نے شور مچایا کہ کہاں ہے مرزے کا حواری؟ اسٹیشن والوں نے بار بار انہیں سمجھایا کہ آپ جانتے ہیں کہ ایک بجے گاڑی چھوٹتی ہے اور مولوی نورالدین آ کر ٹھیک ایک بجے گاڑی پر روانہ ہو چکے ہیں۔اب وہ یہاں کہاں ہیں۔مگر مولوی صاحب پھر بھی شور کرتے رہے۔اس پرو پیگنڈا کے بعد مولوی محمد حسین نے وہیں سے حضرت صاحب کو لدھیانہ تا ر دیا کہ آپ کا حواری مباحثہ سے بھاگ آیا ہے۔آپ اس کو واپس بھیجیں ورنہ میں آپ کے ساتھ مباحثہ کرنے کے لئے لدھیانہ آتا ہوں۔چنانچہ یہی تحریک مباحثہ لدھیانہ کی محرک بن گئی اور اس واقعہ کے پندرہ دن بعد اس مباحثہ کی صورت قرار پائی۔