اصحاب احمد (جلد 5) — Page 553
۵۵۹ روحانی حالت کو بھی ایسا قوی نہ پاتے تھے کہ ضلالت کے اس طوفان کو دبا سکیں۔پس انہوں نے عوام کو تباہی سے بچانے کے لئے یہ راہ نکالی کہ علم توجہ سے جسے انگریزی میں Hypnotism کہتے ہیں، کام لینا شروع کیا۔اور مذہب کی آڑ میں اس علم سے لوگوں کو مسخر کرنا چاہا۔چنانچہ وقتی طور پر اس کا فائدہ بھی ہوا اور لوگ مادیت اور جھوٹی آزادی کی رو میں بہہ جانے ایک حد تک بچ گئے۔مگر یہ خطر ناک نقصان بھی ثابت ہوا کہ آہستہ آہستہ ایک طرف تو خود توجہ کرنے والے بزرگ اس امر کی اصلی حقیقت سے نا آشنا ہوتے گئے اور دوسری طرف عوام اس نشہ میں ایسے مخمور ہوئے کہ بس اسی کو دین و مذہب اور اسی کو روحانیت اور اسی کو جذب واثر قرار دینے لگے۔اور ولایت کا ایک نہایت غلط معیار ان کے اندر قائم ہو گیا۔حالانکہ علم توجہ دنیا کے علموں میں سے ایک علم ہے جسے مذہب کے ساتھ کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔بلکہ ہر شخص اپنی محنت اور استعداد کے مطابق اسے کم و بیش حاصل کر سکتا ہے۔گویا جس طرح ایک رونے والے بچے کو ماں اپنے آرام کے لئے افیم کی چاٹ لگا دیتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ وہ بچہ افیون کو ہی اپنی غذا سمجھنے لگ جاتا ہے اور اس کے ملنے پر تسکین وراحت پاتا ہے اور اس کے بغیر روتا اور چلاتا اور تکلیف محسوس کرتا ہے۔اسی طرح مسلمانوں کا حال ہوا یعنی علم توجہ کے نتیجہ میں جو ایک خمار اور سرور کی حالت عموماً معمول کے اندر پیدا ہو جاتی ہے۔اسی کو وہ اپنی روحانی غذا سمجھنے لگ گئے اور خوراک کو جوان کی روح کا حصہ بن سکتی اور اس کی بقا کا موجب ہے۔بھلادیا فَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ -۱۴ مسیح سے مماثلت اور مہدویت کی برکت حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے ایک خطبہ جمعہ میں بیان کیا۔" ہم نے مسیح موعود کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔آپ میں وہ تمام باتیں تھیں جو سی ناصری میں پائی جاتی تھیں اسی طرح آپ کی جماعت مشابہ ہے مسیح ناصری کی جماعت کے۔اس لئے خیال کیا جاسکتا ہے کہ آپ کی جماعت کو بھی وہی حالات پیش آئیں گے جو مسیح کی قوم کو پیش آئے۔اس کے متعلق حضرت خلیفہ ایسی اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنا ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ جب حضرت اقدس نے اپنے مسیح ہونے کا اشتہار لکھا تو اس کا مسودہ قبل از اشاعت آپ کو دکھایا۔آپ نے پڑھا تو آپ کو خیال پیدا ہوا کہ جس طرح مسیح ناصری کی آمد بنی اسرائیل میں سلسلہ موسوی کے اختتام کی نشان تھی۔اسی طرح آپ کی آمد امت محمدیہ کے لئے یہی بات پیدا کرنے والی نہ ہو۔آپ نے یہ خیال حضرت مسیح موعود کے حضور پیش کیا تو حضرت اقدس نے فرمایا کہ مولوی صاحب آپ کا خیال خوب پہنچا۔مگر بات یہ ہے کہ میں محض مسیح نہیں ،مہدی بھی ہوں۔پس جو مہدویت کے ماتحت جماعت ہوگی اور وہی زیادہ حصہ ہوگی۔وہ سلامت رہے گی کیونکہ مہدویت جو محمد بیت کا بروز ہے وہ مجھے