اصحاب احمد (جلد 5) — Page 552
۵۵۸ اپنی فکر کرے اور اپنے دل کی کھڑکیاں کھولے تا کہ آفتاب ہدایت کی روشنی اور دھوپ اس کے اندر داخل ہو کر اس کی تاریکیوں کو دور اور اس کی آلائشوں کو صاف کر سکے مگر کیا ہی بدقسمت ہے وہ شخص جس نے یہ تو دیکھا اور سمجھا کہ سورج طلوع کر چکا ہے لیکن اس نے اپنے دل کی کھڑکیاں نہ کھولیں اور اسی خیال میں اپنی عمر گزار دی کہ سورج کی روشنی میں کچھ نقص ہے کہ وہ مجھ تک نہیں پہنچتی۔دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ ایک طرف تو لوگ منہاج نبوت سے ناواقف ہوتے ہیں۔اور بوجہ بعد از زمانہ نبوت نبیوں کے حالات اور ان کے طرز وطریق اور ان کے فیض رسانی کی صورت سے نا آشنا ہوتے ہیں۔اور دوسری طرف فقیروں اور ولیوں کے متعلق انہوں نے ایسے ایسے قصے اور حالات سنے اور پڑھتے ہوتے ہیں۔جو گومحض فرضی اور جھوٹے ہوتے ہیں مگر وہ ان کے اندر ولایت کا ایک معیار قائم کر دیتے ہیں جس کے مطابق وہ دوسروں کو پر کھتے ہیں۔اور اس کے مطابق نہ پانے پر شکوک و شبہات میں مبتلا ہونے لگ جاتے ہیں۔مثلاً فرض کرو کہ کسی نے یہ سنا ہو کر شیر وہ جانور ہے جس کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔اور گردن لمبی ہوتی ہے اور دم بہت چھوٹی ہوتی ہے۔اور قد دس فٹ یا اس سے بھی زیادہ بلند ہوتا ہے۔وغیر ذالک تو وہ جب کوئی اصل شیر دیکھے گا تو لا محالہ یہی خیال کرے گا کہ یہ تو شیر نہیں ہے۔کیونکہ جو نقشہ اس کے ذہن میں شیر کا ہے اس کے مطابق وہ اسے نہیں پائے گا پس نبوت و ولایت کا ایک غلط نقشہ دل میں قائم ہو جانا بھی انسان کو اسی قسم کے شبہات میں مبتلا کر دیتا ہے پس ایسے حالات میں انسان کو چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حالات زندگی کا بغور مطالعہ کرے۔اور منہاج اور سنت نبوی کو اپنے سامنے رکھے۔اور زید دبکر کے متعلق جو محض فرضی اور جھوٹے قصے مشہور ہوں ان پر نہ جاوے۔اور اپنے معیار کو اس روشنی میں قائم کرے۔جو قرآن شریف اور سرور کائنات کے سوانح کے مطالعہ سے اسے حاصل ہو۔ایک مسلمان کے واسطے بہر حال قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت مسلم ہے۔پس کیا وجہ ہے کہ زید و بکر کے متعلق وہ ایسی باتوں کو سچا تسلیم کرے جو قرآن مجید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھی نہیں پائی جاتیں۔مسلمانوں میں ولیوں اور بزرگوں کے متعلق ایسے مبالغہ آمیز اور لایعنی قصے اور خوارق مشہور ہیں کہ سن کر حیرات آتی ہے۔اور تعجب ہے کہ یہ قصے صرف زبانوں تک ہی محدود نہیں بلکہ بدقسمتی سے مسلمانوں کے لٹریچر میں بھی راہ پا چکے ہیں۔اس دھو کے کے پیدا ہونے کی ایک یہ وجہ بھی ہے کہ جیسا کہ میں نے اس کتاب کے حصہ اول میں لکھا تھا علم توجہ نے بھی مسلمانوں کو بہت تباہ کیا ہے۔یہ علم ایک مفید علم ہے۔اور اس سے کئی صورتوں میں فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔لیکن اس کا غلط استعمال بھی اپنی نقصان رسانی میں کچھ کم نہیں مسلمانوں میں جب روحانیت کم ہوئی اور لامذہبی اور مادیت کا رنگ پیدا ہونے لگا تو جو لوگ نیک اور متقی تھے ان کو اس کا فکر پیدا ہوا لیکن وہ اپنی