اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 537 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 537

۵۴۳ بڑھا کر یا پیچھے ہٹا کر یا ساری انگلیوں سے کوئی پکڑ کر ہاتھ باندھتا ہے تو کوئی اس پر اعتراض نہیں کرتا۔ہاتھ باندھ کر سُبحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَىٰ جَدُّكَ وَلَا إِلهُ غَيْرُكَ۔۔۔۔۔يا اللهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ نَقِنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الابْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ اللَّهُمَّ اغْسِلُ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالتَّلْجِ وَالْبَرَد۔۔۔۔اس کے بعد اَعُوذُ بِالله مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ (تا) وَلَا الضَّالِّين۔آمین پڑھنے کا ذکر کر کے لکھتے ہیں۔مؤلف ) اس کے بعد کوئی سورۃ یا قرآن مجید کی کچھ آیتیں پڑھتے ہیں اور فاتحہ میں جواهــدنــا کی دعا ہے اس کو بہت توجہ سے اور بعض دفعہ بار بار پڑھتے ہیں اور فاتحہ کے اول یا بعد سورۃ کے پہلے یا پیچھے۔غرض کھڑے ہوتے ہوئے اپنی زبان میں یا عربی زبان میں علاوہ فاتحہ کے اور اور دعائیں بڑی عاجزی وزاری اور توجہ سے مانگتے ہیں اور پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے رکوع میں جاتے ہیں اور دونوں ہاتھوں سے اپنے دونوں گھٹنوں کو انگلیاں پھیلا کر پکڑتے ہیں اور دونوں بازوؤں کو سیدھا رکھتے ہیں اور پیٹھ اور سر کو برابر رکھتے ہیں اور سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ۔۔۔يا سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي۔۔۔تین یا تین سے زیادہ دفعہ پڑھتے ہیں۔اور رکوع کی حالت اپنی زبان میں یا عربی زبان میں جو دعا کرنا چاہیں کرتے ہیں اس کے بعد سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَه۔۔۔۔۔کہتے ہوئے سیدھے کھڑے ہو جاتے ہیں اور کھڑے کھڑے ربَّنَا لَکَ الحَمْدُ۔۔۔يا اَللهُمَّ رَبَّنَالَكَ الْحَمْدُ۔۔۔۔يا اللهُمَّ رَبَّنَالَكَ الْحَمْدُ حَمُدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيْهِ كَمَا يُحِبْ رَبُّنَا وَيَرْضی یا اس کے سوا اور کوئی ماثور کلمات کہتے ہیں اور اس کے بعد جو دعا کرنی چاہتے ہیں اپنی زبان میں یا عربی زبان میں کرتے ہیں۔اور پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے نیچے جاتے ہیں۔اور پہلے گھنٹے اور پھر ہاتھ اور پھر ناک اور پیشانی یا پہلے ہاتھ اور پھر گھٹنے اور پھر ناک اور پیشانی زمین پر رکھ کر سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى۔۔۔۔۔۔يا سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي۔۔۔یکم سے کم تین دفعہ یا اس سے زیادہ طاق پڑھتے ہیں اور چونکہ صحیح حدیثوں میں آیا ہے کہ سجدہ میں بندہ اپنے رب سے بہت قریب ہوتا ہے اور یہ بھی آیا ہے کہ سجدہ میں دعا بہت قبول ہوتی ہے۔لہذا سجدہ میں اپنی زبان یا عربی زبان میں بہت دعائیں کرتے ہیں۔اور سجدہ کی حالت میں اپنے دونوں پاؤں کو کھڑار کھتے ہیں اور ان کی انگلیوں کو قبلہ کی طرف متوجہ رکھتے ہیں۔اور دونوں ہاتھوں کے درمیان سر رکھتے ہیں اور دونوں بازوؤں کو اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا کر کے اور دونوں کہنیوں کو زمین سے اٹھا کر رکھتے ہیں۔ہاں جب لمبا سجدہ کرتے ہوئے تھک جاتے ہیں تو اپنی دونوں کہنیوں کو دونوں گھٹنوں پر رکھ کر سہارا لے لیتے ہیں۔اس کے بعد اللہ اکبر کہتے ہوئے سراٹھا کر گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے ہیں۔اس طور پر کہ داہناں پاؤں