اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 536 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 536

۵۴۲ جو کہ قبولیت دعا یا حضور پیدا کرنے کا موجب ہو اس ضرورت کو محسوس کر کے حضرت امام ہمام علیہ السلام اس امر کی سخت تاکید فرماتے ہیں کہ نماز میں اپنی زبان میں بہت کثرت کے ساتھ دعا کرنی چاہئے۔“ اس کے بعد آپ یہ بیان کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں روحانیت معدوم ہونے پر تکفیر بازی شروع ہو گئی اور شدید اختلافات پیدا ہو گئے جن کے رفع کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ کے مطابق ایک عظیم الشان امام کو معبوث فرمایا اور اب شیعہ سنی حنفی اور وہابی فرقوں میں سے آئے ہوئے لوگ ایک ہی امام کی اقتداء میں نمازیں ادا کرتے ہیں اور کوئی بھی دوسرے پر پہلے کی طرح اعتراض و تحقیر نہیں کرتا اسی تسلسل میں رقم فرماتے ہیں۔” جب خداوند کریم نے اپنے برگزیدہ بندہ کو معبوث فرما دیا اور رنگارنگ۔قوی ترین اور براہین اور روشن ترین آیات ونشانات سے اس کا منجانب اللہ ہونا ثابت کر دیا۔۔۔۔تو اس سے یہ امر بھی قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ جو کچھ خدا کا یہ برگزیدہ کرتا ہے۔وہ سب خداوند کریم کو پسند اور اس کی مرضی کے مطابق ہے (اور ) اس کے اعمال و عبادات کے لئے الہی سر ٹیفکیٹ ہے۔عبادت وہ چیز ہے کہ جس پر انسان کی نجات کی ساری بناء کھڑی ہوتی ہے۔لہذا ضروری ہے کہ اس کے ساتھ خدا کی رضا مندی کا بین ثبوت ہو۔میں نے یہ معیار اعمال و عبادات اس لئے یہاں پر بیان کیا ہے کہ میں یہاں پر صلوۃ کی کیفیت بیان کرنا چاہتا ہوں اور جو کچھ میں بیان کروں گا۔وہ اکثر سنت مطہرہ اور احادیث صحیحہ کے مطابق ہو گا لیکن اثبات اور رفع نزاع احادیث اور ان کی ترجیح کے قواعد سے نہ کروں گا۔کیونکہ یہ طریق انسانی دست اندازی سے خالی نہ ہونے کی وجہ سے نہ کافی اثبات کر سکتا ہے اور نہ مادہ نزاع کو کاٹ سکتا ہے بلکہ یہاں پر میں اس قدر بیان کروں گا کہ خدا کا برگزیدہ اس عبادت کو اس طریق پر ادا کرتا ہے تا کہ یہ طریق عقل مندوں کے نزدیک اثبات کے لئے کافی اور رفع نزاع کے لئے وافی ہو۔اور بجائے اس کے کہ میں ہر ایک مسئلہ کے ساتھ یہ لکھوں کہ حضرت اقدس کا یہی معمول بھا ہے۔ابتداء ہی میں میں یہ بتادیتا ہوں کہ صلوۃ کی جو کیفیت میں یہاں پر لکھوں گا وہ حضرت اقدس کے عمل کے مطابق ہوگی۔اور وہ یہ ہے کہ جب صلوٰۃ پڑھتے ہیں تو کعبہ کی طرف رخ کر کے اللہ اکبر کہتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو اوپر اٹھاتے ہیں یہاں تک کہ انگلیاں دونوں کانوں کے برابر ہو جاتی ہیں اور پھر دونوں کو نیچے لا کر سینہ یعنی دونوں پستانوں کے اوپر یا ان کے متصل نیچے اس طور پر باندھ دیتے ہیں کہ بایاں ہاتھ نیچے اور دایاں اوپر ہوتا ہے اور عموماً ایسا ہوتا ہے کہ داہنے ہاتھ کی تینوں درمیانی انگلیوں کے سرے بائیں کہنی تک یا اس سے کچھ پیچھے بٹے ہوئے ہوتے ہیں اور انگوٹھے اور کنارے کی انگلی سے پکڑا ہوتا ہے اور اگر اس کے خلاف او پر یا نیچے یا آگے