اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 32 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 32

۳۲ دیکھتے ہوئے میرٹھ پہنچے تو ان کی کلاس میں بھی گئے۔حدیث کا درس سُنا حضرت عیسی علیہ السلام کا ذکر تھا۔اس پر حافظ روشن علی صاحب نے سوالات بھی کئے۔علماء زمانہ کی حالت مولوی حبیب الرحمن کے متعلق ایک بات پہلے بیان ہو چکی ہے۔وہ اتنے بڑے فاضل کے بیٹے تھے کہ جن کے ذریعہ حدیث کا علم ہندوستان پھیلا ہے۔سب سے پہلے حدیث کی کتابیں ہندوستان میں مولانا احمد علی نے اپنا مطبع جاری کر کے مولانا محمد قاسم نانوتوی جیسے فاضل شاگرد کو ان کی تصحیح پر ملازم رکھ کر شائع کیں۔اس زمانہ کے علماء کی حالت بیان کرنے کے لئے حضرت مولوی صاحب بیان کرتے ہیں کہ انہی مولانا احمد علی کے بیٹے مولوی حبیب الرحمن کو جو کہ مدرسہ مظاہر العلوم کے اول مدرس تھے دھوکا بازی میں کمال حاصل تھا۔وہ ایک دفعہ بمبئی گئے اور نوابی شان و شوکت کے ساتھ ایک عالیشان کوٹھی لے کر رہائش اختیار کی۔پھر ایک بڑے جو ہری کی دوکان پر آئے اس نے آپ کی پسند کے مطابق زیورات دیئے کہنے لگے کہ ہمارے ساتھ چلو ہم بیگم صاحبہ کو بتا ئیں گے جو وہ پسند کریں گی لے لیں گے۔مکان پر زیورات لے گئے اور آدھ گھنٹہ کے بعد زیورات واپس کر دئیے اور صرف ایک انگوٹھی لے لی کہ دوسرے ہمیں پسند نہیں۔اس کے بعد پولیس میں رپورٹ کر دی کہ ہماری چوری ہوگئی ہے اور انہی زیورات کا پتہ دیا۔تلاشی پر وہ تو بر آمد ہو جانے ہی تھے۔پولیس کے پوچھنے پر کہا کہ میں ثبوت عدالت میں پیش کروں گا۔عدالت میں جو ہری سے پوچھا کہ میرے پاس زیورات کتنی دیر رہے ہیں۔اس نے کہا کہ آدھ گھنٹہ مولوی صاحب کے پوچھنے پر اس نے کہا کہ آدھ گھنٹہ میں ان کے نگینے اکھاڑ کر اسی طرح ہر گز نہیں لگائے جا سکتے اور مجسٹریٹ نے بھی تصدیق کی کہ اکھاڑ کر لگانے سے پھر ایسے نہیں لگ سکتے۔اب مولوی صاحب نے یہ ثبوت پیش کیا کہ ایک کاغذ پر اپنے طغرائی دستخط کئے اور کہا کہ اگر ان سب نگینوں کے نیچے میرے اس دستخط کے کاغذ موجود ہوں تو پھر ثابت ہوگا کہ یہ میرے ہیں۔اب وہ جس نگینہ کو اکھاڑتے تھے اس کے نیچے سے دستخط نکلتے تھے چنانچہ وہ سارے زیورات مولوی صاحب کو مل گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر کہاں سے سُنا طالب علمی کے زمانہ میں آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر کہاں سُنا اور کس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو قبول حق کی توفیق عطا کی ایک بہت ہی سبق آموز قصہ ہے۔ہم اسے یہاں تفصیل سے