اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 33 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 33

۳۳ بیان کرتے ہیں۔اس سے معلوم ہوگا کہ اللہ تعالی پاک طبع لوگوں کو ضائع نہیں کرتا اور اپنی رحمت اور فضل سے انہیں چاہ ضلالت سے بچاتا ہے۔حضرت مولوی نورالدین کی خدمت میں حاضر ہونا آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر سنا۔جستجو شروع ہوئی۔لاہور میں طالب علمی کے زمانہ میں آپ نے معلوم کرنا چاہا کہ احمدیت کیا چیز ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بچے ہیں یا نہیں ؟ لیکن مخالفین سے مخالفت کی وجہ سے پتہ نہ لگا۔موافقوں سے بھی پورا علم نہ ہو سکا۔حضور علیہ السلام ایک دفعہ لاہور تشریف لائے۔مولوی صاحب نے ملاقات کی بہتیری کوشش کی۔مگر نہ مخالفین حضور علیہ السلام کی جائے قیام کا پتہ دیتے تھے اور نہ ہی احتیاط کی وجہ سے احمدی۔اس لئے ملاقات کا ان دنوں کوئی موقعہ نہ ملا۔آپ کی طبیعت میں جستجو اسی زمانہ میں تھی۔مخالفوں سے آپ عموماً احمدی بن کر باتیں پوچھتے اور احمدی عالم سے غیر احمدی کے طور پر دریافت کرتے تھے اور دعا بھی کرتے تھے۔اگر چہ آپ کو یہ ڈر تھا کہ شاید نماز میں اپنی زبان میں دعا کی جائے تو قبول نہ ہو۔جیسا کہ عام خیال تھا لیکن اپنی زبان میں دعا کرتے ضرور تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس جاتے ہوئے حضرت مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ لا ہور اُترتے تھے اور مولوی سرور شاہ صاحب کو والد صاحب نے تاکید کی ہوئی تھی کہ حضرت مولوی صاحب آئیں تو ضرور ملا کرو۔اس لئے آپ ملا کرتے تھے اور حضرت مولوی صاحب کی آمد سے باخبر رہنے کے لئے یہ انتظام کیا ہوا تھا کہ مولوی سرور شاہ صاحب کے ایک ہم جماعت مولوی محمد الدین بھیروی چینیاں والی مسجد میں نماز پڑھتے تھے ان سے کہا ہوا تھا کہ حضرت مولوی صاحب کے آنے پر اطلاع دیا کریں۔کیونکہ آپ اس مسجد کے قریب مرزا امیر الدین کے مکان پر اترا کرتے تھے جو کہ پرانی کو توالی کے مغربی جانب ایک دو مکان کے فاصلے پر واقع تھا اور یہ مکان بھی مولوی محمد الدین کی رہائش کے قریب تھا۔مرزا صاحب وہابی تھے اور حضرت مولوی صاحب کے وہاں ہونے کے زمانہ کے ان سے تعلقات تھے افسوس کہ احمدی نہیں ہوئے۔حضرت مولوی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ اڑ ہائی شخص مجھ پر عاشق ہوئے ہیں۔ایک شیر شاہ نام سید، ایک مولوی سرورشاہ صاحب کے والد اور ایک صاحب جن کا نام یقیناً حکیم محمد الدین سکنہ بھیرہ تھا۔جو غالبا حکیم محمد جلیل صاحب احمدی کے والد تھے۔حکیم محمد الدین آپ کے ہم عمر تھے اور راولپنڈی میں مطلب کیا کرتے تھے۔آدھے عاشق اس لئے کہ وہ احمدی نہیں ہوئے تھے۔باقی دوسرے دعوی سے قبل وفات پاچکے تھے۔مولوی سرور شاہ صاحب کے والد واقعی