اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 522 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 522

۵۲۷ - (۱۹۵۶ء تا ۱۹۶۰ء ) میں میرا دل آپ کے صاحبزادہ اخویم مکرم مبارک احمد شاہ صاحب کو بار بار دیکھنے کو چاہتا تھا کیونکہ ان کی شکل وصورت ، قدوقامت اور خدو خال بعینہ حضرت مولوی صاحب کی شکل و شباہت، قدوقامت اور خدو خال نظر آتے ہیں اور رفتار و گفتار سے حضرت مولوی صاحب کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔فَتَبَارَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخَالِقِينَ تجسس کی ( یعنی کسی شخص کی مخفی کمزوریوں ، گنا ہوں یا جرموں کا اس ارادہ نیت اور خاص کوشش سے پتہ لگاتے رہنا کہ ان کو ایسے شخص تک پہنچا کر جو اسے سزا دے سکتا ہے یا اس کے مال، جان ، عزت یا قوم یا خاندان کو کس قسم کا نقصان پہنچا سکتا ہے ) آپ کو ہر گز عادت نہ تھی بلکہ آپ کو ادھر ادھر جھانک کر دیکھنے کی بھی عادت نہ تھی اپنے کام سے غرض ہوتی تھی یہی وجہ ہے کہ ۱۹۳۳ء میں جب جامعہ احمدیہ کے کچھ طالب علموں وغیرہ نے اپنے ناظر تعلیم و تربیت کو انگلستان کے لئے بطور مبلغ قادیان سے روانہ ہوتے وقت ریلوے اسٹیشن قادیان پر یورپین طرز پر الوداع کہا تو آپ کو باوجود یکہ آپ ہمارے پرنسپل تھے اور روزانہ ہمیں پڑھایا کرتے تھے اور ہمارے اور آپ کے درمیان کوئی حجاب نہ تھا۔اس پروگرام کا علم بھی نہ ہو سکا۔اور اللہ تعالیٰ نے بوجہ آپ کی معصومیت کے اس واقعہ کے طبعی نتیجہ سے بھی آپ کو محفوظ رکھا۔سچ ہے مَنْ كَانَ لِلَّهِ ، كَانَ اللَّهُ لَهُ * - آپ کی اپنے شاگردوں ، ماتحت کارکنوں اور دوستوں سے لٹمی ہمدردی اور خیر خواہی کی ایک مثال یہاں درج کرتا ہوں۔چونکہ حضرت مولوی صاحب کا دستور تھا کہ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ٣٨ پر عمل کرتے تھے۔اور حکایات و واقعات کے ذریعہ مشکل باتوں کو جلد سمجھانے کی کوشش کیا کرتے تھے اس لئے یہ ذیل کی تین مثالیں آپ کی سیرت پر انشاء اللہ بہت اچھی روشنی ڈالیں گی۔(۱) ہمارے ایک دوست ہمارے ہم جماعت مولوی فاضل ہیں اور ہماری طرح حضرت مولوی صاحب کے بھی شاگرد ہیں۔مولوی فاضل کا امتحان پاس کر لینے کے بعد ان کو کوئی خاطر خواہ کام نہ ملا اور یہ بھی طبعی بات ہے ہمیں اس واقعہ پر جو اپنی نوعیت کا اول اور آخری تھا اور سلسلہ کی روایات کے بالکل خلاف تھا حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک جلالی خطبہ دیا اور خود تحقیقات فرمائی ان غلط کاروں نے معافی طلب کی اور حضور نے از راہ ترحم معاف فرما دیا۔مکرم مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ امیر جماعت قادیان ذکر کرتے ہیں کہ حضرت مولوی صاحب کو سخت صدمہ پہنچا تھا اور آپ نے حضور کی خدمت میں تحریر کیا کہ مجھے آپ کی ناراضگی آگ سے زیادہ سخت معلوم ہوتی ہے اور مولوی صاحب کو تب چین آیا جب معلوم ہوا کہ حضور آپ سے ناراض نہیں۔آپ کے شاگردوں سے غلطی ہونے کے باعث آپ کو تکلیف پہنچنالازمی امر تھا لیکن آپ کو اس کا علم تک نہ تھا۔(مؤلف)