اصحاب احمد (جلد 5) — Page 514
۵۱۹ لکھا ہے کہ اردو میں مفصل تفسیر ہے ( دیکھیں دیباچہ صفہ مطبوعہ ۱۹۵۱ء) مگر وہ مفصل بھی ہماری طرف سے شائع شدہ تفسیر کی ہی بدولت مفصل ہے۔اور پہلے سیپارہ کی تفسیر میں تو مولوی صاحب کو بہت ہی کدوکاوش اور جد و جہد یا جان مارنی پڑی ہے کیونکہ نہ تو وہ صدرانجمن احمد یہ قادیان کی طرف سے شائع شدہ پارہ اول از قلم حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تبصرہ العزیز کو بعینہ نقل کر سکتے تھے اور نہ اس پر کچھ اپنی طرف سے زیادتی کی طاقت رکھتے تھے۔اس کے بالتقابل مولوی محمد علی صاحب کے خسر ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کے آخری پارہ قرآن کریم ( عَمَّ يَتَسَاءَ لَونَ ) کی تفسیر ملاحظہ کرنے اور پھر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اس پارہ کی تفسیر کبیر پڑھنے سے حق کو شناخت اور ظاہری علم اور باطنی علوم و فیوض کو چشم خود دیکھا جاسکتا ہے۔اور لا يَمَسَّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي آرَانَا الْحَقَّ حَقًّا والْبَاطِلَ بَاطِلاً - بیعت خلافتہ ثانیہ کے حالات بھی آپ ہمیں تفصیل سے سنایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ پہلا (یا دوسرا شخص) جس نے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی بیعت خلافت کی تھی وہ میں تھا۔مجھے اب اچھی طرح یاد نہیں رہا۔شاید فرماتے تھے کہ پہلے مولوی سید محمد احسن صاحب نے بیعت کی تھی اور پھر ان کے بعد میں نے ، اور یہی صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ مولوی سید محمد احسن صاحب کے ان مضامین سے جو انہوں نے خلافت ثانیہ سے منحرف ہونے کے بعد لکھے یہی معلوم ہوتا ہے کہ مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی نے ہی سب سے پہلے بیعت کی تھی۔واللہ اعلم اور پھر میرے بعد جب مسجد (نور) کے ہر طرف سے ”میاں صاحب“ ”میاں صاحب“ کی آواز میں آنے لگیں اور لوگ بیعت کرنے کے لئے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کوشش کرنے لگے تو حضرت صاحب نے مجھے مخاطب ہو کر فرمایا۔”مولوی صاحب! مجھے تو بیعت کے الفاظ یاد نہیں آپ کہتے جائیں مسجد نور میں پہلی دفعہ بیعت خلافت ثانیہ کے انتخاب کے بعد اجتماعی ہوئی تھی نہ کہ انفرادی اور تمام حاضرین مسجد نور نے بیک وقت بیعت کی تھی۔سید محمد احسن کا یہ کہنا کہ وہ اول المبایعین تھے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ انہوں نے تقریر میں حضور ایدہ اللہ کے خلیفہ منتخب کرنے کو پیش کیا تھا۔گویا ان کی تائید میں حضرت مولوی سرورشاہ صاحب نے بھی تائید میں کوئی بات کہی ہوگی۔یہاں جو تفصیل درج ہے اس سے بھی ظاہر ہے اجتماعی بیعت ہی ہوئی تھی۔(مؤلف)