اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 513 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 513

۵۱۸ صاحب خود انگریزی میں تفسیر لکھنے لگے تو کہنے لگے کہ تفسیر مختصر ہونی چاہئے۔پھر جب ان کے دلوں میں وسوسہ پڑ گیا اور اختلافی مسائل کا ذکر ہونے لگا۔اور میرے خیالات کا ان کو اچھی طرح علم تھا تو پھر اور قسم قسم کی روکیں ڈالنے لگے اور تفسیر کو اور زیادہ مختصر کرنے پر زور دینے لگے اور میرے لکھے ہوئے مضمون میں دخل دینے لگے۔تب میں نے کہا کہ مولوی صاحب ! اگر تفسیر القرآن کا ضرور ہی گلا گھونٹنا ہے تو پھر ایسی تفسیر لکھنے اور شائع کرنے کا کیا فائدہ ہے؟ اس پر میں نے تغیر لکھنی بند کر دی!۔“ آپ کی یہ تفسیر بھی خاکسار نے شروع سے لے کر آخر تک خدا تعالیٰ کے فضل سے پڑھی ہوئی ہے یہ تفسیر القرآن آٹھویں سیپارہ کے شروع تک ہے پہلے چار پانچ سیپاروں تک کی تفسیر نہایت مفصل اور جامع ومانع ہے اور حقائق و معارف کے سمندر اس میں موجزن ہیں۔اور رسالہ ”تفسیر القرآن‘ کے سرورق پر جو آیت لکھی جاتی تھی۔وَلَا يَاتُوْنَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِتُنكَ بِالْحَقِّ وَاحْسَنَ تَفْسِيرًا ٣٦ کی مصداق ہے۔ایسے ایسے مسائل جو پیچیدہ شمار کئے جاتے ہیں۔اس میں نہایت شرح وبسط سے ان پر بحث کر کے طالبان تفسیر القرآن پر ایک عظیم الشان احسان کیا گیا ہے۔آخری دو تین سیپاروں سے حضرت مولوی صاحب کے ارشاد کی تصدیق ہوتی ہے۔مزید برآں یہاں یہ لکھنا بھی نا مناسب نہ ہوگا کہ مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے کی اردو تفسیر ترجمہ القرآن یعنی ”بیان القرآن کے دیکھنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ جس قدر تفسیر القرآن اس کی اشاعت تک صدر انجمن احمد یہ قادیان پاره اول اردو و انگریزی از حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اور تفسیر القرآن از حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب اور ترجمۃ القرآن یعنی قرآن مجید کے پہلے اڑھائی پارے درمیانی دو پارے اور آخری سات سیپاروں کی تفسیر جو حضرت خلیفتہ المسیح اول رضی اللہ عنہ کے درسوں سے مرتب کی گئی ہے اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ایڈیٹرالحکم کی طرف سے شائع ہو چکی تھی۔مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے کی تغییر " ترجمۃ القرآن * * یعنی بیان القرآن بھی ان سیپاروں میں کچھ مفصل ہے مگر جو تفسیر اس کے علاوہ ہے وہ بہت ہی مختصر اور نہایت ہی مجمل ہے بلکہ بعض جگہوں پر تو عمد احضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تفسیر کے خلاف بھی لکھا گیا ہے اور اپنی انگریزی تفسیر کے متعلق خود مولوی محمد علی صاحب نے اس کے آخری ایڈیشن کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ وہ نہایت ہی مختصر اور مجمل ہے اور بیان القرآن کے متعلق مثلاً یہ آیت سرورق رسالہ تفسیر القرآن جلدے نمبر ا بابت جنوری لغایت جون ۱۹۱۲ء پر درج ہے۔(مؤلف) یہ نام بھی ( ترجمه القرآن ) حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کی نقل ہے رض