اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 494 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 494

۴۹۹ مولوی بھی ہوں اور سید بھی جوصرف مولوی ہو یا صرف سید ہو وہ روپیہ جمع کر لیتا ہے میں تو مولوی بھی ہوں اور سید بھی۔سلسلہ کے لئے روپیہ بہت جمع کرلوں گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ نے بھی تائید خلافت میں کا رہائے نمایاں سرانجام دیئے۔آپ حضور کے ہمیشہ خاص مصاحب رہے۔میں نے تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں تعلیم پائی تھی۔میں تو جب اس زمانے کا تصور ذہن میں لاتا ہوں تو مختلف تقاریب میں حضرت مولوی صاحب حضور کے پہلو میں نظر آتے ہیں۔حضور نے تعلیم الاسلام ہائی سکول اور مدرسہ احمدیہ کے طلبہ کے لئے انصار اللہ کی مجلس قائم ☆ فرمائی۔حضور خطاب فرمایا کرتے لیکن اس میں بھی حضرت مولوی صاحب حضور کے ساتھ موجود ہوتے ہو باوجود بڑھاپے کے آپ کی صحت بہت اچھی تھی۔آپ سنتیں بڑی لمبی ادا فرماتے اور اگر نماز پڑھانے کا موقع ملا تو وہ بھی بھی ہوتی۔نوجوان اپنی عمر کے باعث بعض دفعہ اکتا جاتے لیکن ہمارے بعض بزرگ فرماتے کہ اس نماز کا بڑا ہی لطف آتا ہے۔تہجد کے لئے آپ دو بجے صبح اٹھتے تھے۔ایک دن باتوں باتوں میں اس کا تذکرہ آیا تو آپ نے فرمایا کہ میں عشاء کے بعد کھانا کھاتا ہوں۔آپ کی زندگی انتہائی مصروف زندگی تھی۔آپ مسجد سے نکلتے تو بعض علم کے پیاسے ساتھ ہو لیتے اور کوئی سوال پوچھ لیتے۔آپ اطمینان سے بات کرتے جاتے اور وقفہ وقفہ کے بعد فرماتے۔” آیا خیال شریف میں۔آپ نے کبھی کسی کو یہ کہتے نہیں سنا کہ میرے پاس اس وقت فراغت نہیں۔آپ تشنہ کاموں کو سیراب کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہوتے تھے۔بعض دفعہ بات ختم نہ ہوتی اور آپ گھر پہنچ جاتے تو ٹھہر جاتے اور بات مکمل کئے بغیر اندر نہ تشریف لے جاتے۔ہم واقفین کے اصل مربی چونکہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ہی تھے۔حضور پہاڑ پر تشریف لے جاتے تو ہمیں بھی بعض اوقات ہمراہ جانے کا حکم ہو جاتا۔ہم نے رہائش کے لئے ڈلہوزی کے بازار میں ایک فلیٹ حاصل کی۔ہمارے اساتذہ جن میں حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی بھی تھے۔ہمارے ساتھ ہی قیام فرما ہوئے لیکن حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کو حضور نے اپنے قریب پرائیویٹ سیکرٹری صاحب والی کوٹھی میں ٹھہرا لیا۔آپ کی اہلیہ محترمہ قادیان میں آپ کی غذا کا بہت خیال رکھتی تھیں۔آپ حریرہ با قاعدہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بورڈنگ مدرسہ احمدیہ یا قصر خلافت کے صحن میں دونوں مدارس کے طلباء کو جمع کر کے وعظ فرمایا کرتے تھے تحریک جدید اور مجلس خدام الاحمدیہ کی تحریکات والے مقاصد ہی مختصراً ان انصار اللہ کے سامنے حضور پیش فرماتے تھے مثلاً محنت کی عادت کفایت شعاری وغیرہ۔خاکسار بھی اس میں شامل تھا یہ ۱۹۲۶ء کے قریب کی بات ہے (مؤلف)