اصحاب احمد (جلد 5) — Page 490
۴۹۵ میرے دل میں ان کی عظمت تھی لیکن میں آپ کو صرف ایک بزرگ اور ایک عالم کے طور پر جانتا تھا۔اس جبہ کے اندر جو عظیم الشان شخص قادیان کی مقدس بستی کے اندر چلتا پھرتا تھا اس سے واقف نہ تھا۔اب چند یوم کے بعد میں نے محسوس کیا کہ حضرت مولوی صاحب ایک عالم اور بزرگ ہی نہیں ہیں بلکہ آپ ایک محبت اور قدر کرنے والا حساس قلب رکھتے ہیں۔مجھے آپ سے ذاتی عقیدت پیدا ہوگئی۔آپ کے کلام میں روحانیت ہوتی تھی۔آپ کا حافظہ غضب کا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے واقعات اور سلسلہ کی تاریخ کے بعض واقعات کئی دفعہ آپ سے سنے اور بڑی دلچسپی سے سنے اور میں نے محسوس کیا کہ آپ کی روایت کے الفاظ میں فرق نہیں پیدا ہوتا وہی الفاظ رہتے ہیں لیکن آپ نے خود ہی بتایا کہ آپ کا تاریخ کا حافظہ اچھا نہیں آپ نے جس ماحول میں پرورش پائی اس میں سکوں اور اس طرح اعداد سے کوئی سروکار نہ تھا اس لئے عدد آپ کو یاد نہیں رہتا فرمایا۔قریباً روزانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر جاتا ہوں لیکن مجھے حضور کی تاریخ وفات یاد نہیں۔فرمایا کہ مجھے اڑھائی سال کی عمر تک سے واقعات یاد ہیں۔میں آیا کی گود میں تھا۔وہ مجھے باہر لے جانے لگی۔میرے والد صاحب ( یا دادا صاحب مجھے راوی کوٹھیک یاد نہیں رہا) نے کہا کہ بچہ کو اندر لے جاؤ۔اسے آج جلاب دیا ہے۔میں نے بڑے ہوکر یہ واقعہ بتایا تو والد صاحب (یا دا دا صاحب) نے بتایا کہ یہ میری اڑھائی سال کی عمر کا واقعہ ہے۔آپ فرمایا کرتے کہ مجھے یہ یاد رہتا ہے کہ یہ حوالہ کتاب کے دائیں صفحہ پر ہے یا بائیں پر اور کس جگہ پر ہے اور چونکہ یہ بزرگ خدا میں فنا تھے۔اس لئے خود اللہ تعالیٰ بھی حوالہ جات کے بارہ میں ان کی مدد فرماتا تھا۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ لاہور میں کسی غیر مبائع کا سوال پیش ہوا۔آپ نے تذکرہ طلب فرمایا۔پیش کیا گیا کھولا حاشیہ میں جواب درج تھا۔میں حیران ہوا۔پوچھا تو فرمایا اس طرح اللہ تعالی مدد کر دیتا ہے۔ایک دن مسجد مبارک قادیان میں میں نے خود حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کو فرماتے سنا کہ مجھے ایک سوال کے جواب کی ضرورت تھی۔میں نے کئی نوجوان علماء سے دریافت کیا۔کتابیں دیکھنے کے باوجود وہ نہ بتلا سکے۔حضرت مولوی صاحب سے پوچھا آپ نے زبانی جواب دے دیا اور حوالہ بھی بتا دیا۔میرے لئے حضرت مولوی صاحب کی تعلیم و تدریس بڑی، پُر لطف ہوتی تھی۔یہ نہیں کہ آپ کے پڑھانے سے کا فیہ یا شرح جامی میں خاص لطف پیدا ہو جاتا بلکہ اس لئے کہ درس کے درمیان آپ کوئی نہ کوئی واقعہ ضمناً سنادیتے جو بڑا روحانیت بخش ہوتا۔آپ کا اپنے تمام شاگردوں سے محبت و شفقت کا سلوک ہوتا تھا۔اس سارے عرصہ میں مجھے یاد نہیں کہ کبھی بھی کسی معاملہ میں آپ سے کسی کی بدمزگی پیدا ہوئی ہو۔آپ کا انداز اصلاح بھی لطیف ہوتا تھا۔کسی نے