اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 475 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 475

۴۸۰ غیب سے آپ کی ایک خواہش کا پورا ہونا اللہ تعالیٰ کے بعض پیارے بندے بعض دفعہ کسی خواہش کا اظہار کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے اپنی محبت کا اظہار کرنے کے لئے غیر معمولی طور پر اس کے پورا کرنے کا سامان کر دیتا ہے۔مروی ہے کہ شدید موسم گرما میں ایک روز حضرت علی نے خواہش کی کہ اولے ڈال کر ستو پینے کو جی چاہتا ہے۔بادل کا نام ونشان تک نہ تھا کہ اچانک بادل آیا۔اولے برسے اور راوی نے مسجد میں سے جمع کر کے ستو میں ڈال کر آپ کو پلائے۔آپ کی خواہش کے پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت کے جوش میں آنے پر حضرت علی کا قلب مطہر جذبات تشکر وامتنان کے ساتھ اس کے حضور سجدہ ریز ہو گیا۔اسی طرح کا ایک واقعہ محترم خواجہ عبدالغنی صاحب نے بیان کیا کہ ۱۹۳۲ء کے لگ بھگ حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب ہمارے گاؤں میں تشریف لائے۔سید قطب الدین صاحب نے جو گو صحابی نہ تھے لیکن صوفی منش بزرگ اور بہت ہی متوکل انسان تھے، آپ کی دعوت کرنا چاہی۔مولوی صاحب نے فرمایا آپ کس محترم خواجہ صاحب سکنہ موضع اون گام ( نزد باڑی پور ضلع بارہ مولا۔کشمیر ) تقسیم ملک کے بعد کچھ عرصہ امیر صوبائی بھی رہے۔بہت دعائیں کرنے والے بزرگ ہیں۔یہ واقع انہوں نے دسمبر ۱۹۵۲ء میں اپنے گاؤں میں خاکسار کی طرف سے حالات دریافت کرنے پر موجود گی اخویم محمد سعید صاحب سابق مبلغ سرینگر بتایا تھا۔بقیہ حاشیہ: - بعد میں حضور کو خیال آیا کہ مولوی صاحب دفتر وصیت کے کارکن ہیں اس لئے کہیں اس بات پر اعتراض نہ ہو کہ قیمت کم لگائی گئی ہے۔اس لئے آپ نے قیمت کا اندازہ لگانے کے لئے ایک شخص کو مقرر کیا۔اس نے دو ہزار قیمت ڈالی۔پھر حضور نے دوسرا آدمی مقرر کیا۔اس نے اکیس سو روپیہ قیمت لگائی پھر حضور نے قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی کو مقرر کیا وہ مکان دیکھنے آئے۔چوبارہ دیکھ کر کہنے لگے۔مولوی صاحب آپ فرشتوں کو کیوں تکلیف دیتے ہیں میرے پوچھنے پر بتایا کہ یہ مکان اس قدر بوسیدہ ہے کہ میں اس کے اندر جانا نہیں چاہتا اور آپ اس میں رہتے ہیں۔انہوں نے اس کی قیمت کا اندازہ پونے دو ہزار لگایا تو حضور نے فرمایا کہ مکان کے متعلق پورا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا۔فرق ضرور ہوتا ہے اور پونے دو ہزار پر مکان مجھے دے دیا۔قاضی صاحب کی بات درست تھی اس لئے کہ ایک روز میں چوبارہ میں تھا کہ زور سے السلام علیکم کی آواز آئی میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا کوئی نہیں تھا پھر دوسری بار اور پھر تیسری بار یہی الہام ہوا با وجود اس قدر بوسیدہ ہونے کے اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا یہاں تک کہ دوبارہ تعمیر کرانے کا موقع مل گیا۔