اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 474 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 474

۴۷۹ مکان کی خرید سلامتی کے فرشتے آپ دارالانوار کو جانے والی سڑک پر ایک مکان میں مقیم تھے اور ۱۹۴۷ء میں آپ کے سوانح کی خاطر یہیں حاضر ہوا کرتا تھا۔اس وقت نچلے حصے میں بیٹھک میں آپ فروکش ہوتے تھے۔ڈاکٹری مشورہ تھا کہ آپ آرام کریں سخت ضعف ہے۔البتہ آپ ممانعت کے باوجود پانچوں نمازوں اور مجلس عرفان میں شمولیت کے لئے تشریف لے جاتے تھے۔یہ مکان آپ نے خرید لیا تھا آپ خود چوبارہ میں اس کے مغربی کمرہ میں رہائش رکھتے تھے۔آپ نے ایک چھینکا چوبارہ میں رکھا ہوتا تھا کوئی چٹھی وغیرہ دینے آتا تو لٹکا دیتے اور اس کے ذریعے سے چٹھی حاصل کر لیتے اس طرح بار بار ا تر نا چڑھنا نہ پڑتا ہوں آپ نے بیان کیا کہ ایک شخص نے اس مکان کی تعمیر شروع کی۔اس نے مزدوروں کے لئے تھوڑی اجرت مقرر کی اور انہیں کہا کہ وہ کھانا لنگر خانہ میں کھا لیا کریں۔ایک روز حضرت میر ناصر نواب صاحب نے ان لوگوں کو وہاں کھانا کھاتے دیکھ پایا۔پوچھنے پر اس بات کا علم ہوا۔آپ صاحب مکان کو بہت ناراض ہوئے۔انہوں نے اس بات کو برا منایا ابھی چوبارہ نہیں بنا تھا انہوں نے اس کی تعمیر روک دی۔حکیم غلام غوث صاحب امرت سر کے خاندان حکیماں کے ممبر مخلص احمدی تھے ان کے بہنوئی آبادان۔ایران میں کام کرتے رہے تھے اور چاہتے تھے کہ کسی جگہ جائیدادخرید کریں۔حکیم صاحب نے انہیں قادیان کا پتہ دیا۔وہ یہاں آئے اور بیعت کر لی اور اس مکان کو خرید لیا۔کچھ عرصہ بعد انہیں روپیہ کی ضرورت پڑی تو انہوں نے خان صاحب منشی برکت علی صاحب شملوی سابق جائنٹ ناظر بیت المال کے پاس فروخت کر دیا۔ایک دفعہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب اس مکان کے قریب سے گزرے۔مولوی صاحب اس وقت مکان میں کرایہ پر رہتے تھے اور آپ سے کہا کہ آپ دور مکان نہ لیں۔آپ مسجد میں نماز پڑھاتے ہیں۔جب موقع ملے تو یہی مکان خرید لیں۔کچھ عرصہ بعد مولوی صاحب کے پراویڈنٹ فنڈ میں دو ہزار روپیہ جمع ہو گیا۔ادھر شی صاحب نے اہلیہ کی اور اپنی وصیت میں یہ مکان دفتر وصیت کو دے دیا مولوی صاحب نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ سے اس مکان کے خریدنے کی اجازت چاہی۔حضور کے ذہن سے بات اتر گئی۔اور دوسال تک کوئی جواب نہ ملا۔اور نہ ہی مولوی صاحب نے دوبارہ ذکر کرنا مناسب سمجھا۔دو سال کے بعد ایک روز آپ کے گھر سے عزیزہ بیگم صاحبہ اہلیہ مرزا گل محمد صاحب کے ہاں گئیں اور مکان کے متعلق بھی ذکر کیا آپ کی اہلیہ کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ حضور بھی وہاں تشریف رکھتے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ مجھے یہ بات بھول گئی تھی مولوی صاحب لکھ بھیجیں۔چنانچہ لکھ کر دینے پر حضور نے اجازت دے دی اور سودا ہو گیا۔