اصحاب احمد (جلد 5) — Page 426
۴۳۱ آیا تھا۔اب فوت ہو چکی ہوگی۔اس کے کفن دفن کا انتظام کرنا ہے۔چنانچہ بعض دوسرے دوست بھی گھر تک ساتھ آئے اور بچی وفات پاچکی تھی۔ایک دفعہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ علیل تھے مولوی صاحب با وجود خود شدید انفلوائنزا کے بخار میں مبتلا ہونے کے مسجد مبارک میں باقاعدگی سے نماز کے لئے آتے تھے۔گھر میں آپ کے سونے کا کمرہ علیحدہ تھا۔وہاں بھی نوافل میں آپ منہمک ہوتے۔قیام وجود طویل ہوتے۔ایک دفعہ میں بعد عشاء آپ کے پاس ایک شکایت لے کر آیا تو آپ کو نوافل میں مصروف پایا۔باہر منتظر رہا۔بورڈ نگ کے طلباء بعد مطالعہ سو گئے لیکن آپ کے نوافل میں قریباً دو گھنٹے صرف ہو گئے۔میرے کچھ عرض کرنے کے بغیر ہی آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے التحیات میں مجھے اس لڑکے کے متعلق ایک آیت قرآنی الہام کر کے مجھے اس کے متعلق دعا کی تحریک ہوئی ہے کہ دعا سے اس کی اصلاح ہو جائے گی۔اس کے بعد پھر آپ نے لمبی دعا کی۔چنانچہ جلد ہی اس لڑکے کی اصلاح ہو گئی۔آپ راضی برضائے الہی رہتے تھے لیکن آپ نے کبھی کسی کے سامنے آنسو نہیں بہائے اور نہ ہی گھبراہٹ کا اظہار کیا۔آپ کے ایک ڈیڑھ سالہ بچے کے متعلق آپ کو خواب میں بتلایا گیا کہ یہ امرت سر گیا تو فوت ہو جائے گا۔غالبا دوسرے ہی دن آپ کی اہلیہ محترمہ نے امرت سر والدین کی ملاقات کے لئے جانے کا ارادہ کیا۔آپ نے اپنا خواب سنایا اور وہ رک گئیں لیکن تین چار دن کے بعد اصرار کیا۔آپ نے اجازت دے دی اور مجھے ہمراہ بھجوا دیا۔چنانچہ میں چھوڑ آیا۔تیسرے دن خط آیا کہ بچہ نمونیہ میں مبتلا ہو کر سخت علیل ہے۔آپ امرت سر گئے بچہ وہیں وفات پا گیا۔واپس آنے پر میں نے آپ کی اہلیہ محترمہ سے دریافت کیا کہ آپ حضرت مولوی صاحب کی خواب سننے کے باوجود امرت سرکیوں گئیں تو فرمایا کہ ان کو کچھ نہ کہو۔مولیٰ کی یہی مرضی تھی۔آپ شاگردوں کے مشفق استاد تھے۔ہر تکلیف میں ان کی ہمدردی اور امداد کرنا چاہتے تھے۔ایک دفعہ ایک طالب علم کی کسی غلطی کی شکایت افسر صاحب مدرسہ (حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ) کے پاس پہنچی تو آپ اس کی امداد کے ارادہ سے گھر سے نکلے لیکن آپ کو الہام ہوا۔لاتـكـن لـلـمـجرمین ظهیرا جس سے آپ سمجھ گئے کہ وہ قصور وار ہے۔آپ نے یہ واقعہ حضرت قاضی امیرحسین صاحب سے بیان کیا اور کہا کہ آپ اس کی سفارش کریں۔چنانچہ قاضی صاحب کی سفارش پر حضرت صاحبزادہ صاحب نے اس طالب علم کو معمولی تنبیہہ کر کے معاف کر دیا۔جن ایام میں آپ بورڈنگ مدرسہ احمدیہ کے سپر نٹنڈنٹ تھے تو نماز فجر کے لئے آپ بورڈران کے پاؤں کا انگوٹھا دبا کر فرماتے تھے۔میاں اٹھو نماز کا وقت ہو گیا ہے یہ حکم آپ کی زبان سے اتنا پیارا معلوم ہوتا کہ سب لڑکے فوراً بیدار ہو جاتے۔جب لڑکے ہنسی مذاق کی باتیں کرتے آپ کبھی ان کے پاس سے گزرتے تو ایسی