اصحاب احمد (جلد 5) — Page 19
۱۹ اب مجھے ڈر ہے کہ وہ مولوی رحمت اللہ وہابی کے قابو آ جائے گا۔چنانچہ جب اس نے استاد کو مجبور کیا تو اس نے کہا کہ میں نے پھل اور ہشت نگر دو علاقہ کے آدمیوں کو نہ پڑھانے کی قسم کھائی ہوئی ہے وہ غلط فہمی سے حضرت مولوی صاحب کو پکھل کا سمجھتے تھے ) پھر خود ہی کہا کہ میں قسم کا کفارہ دیدوں گا۔چنانچہ آپ ان کے پاس گئے وہ واقعیہ میں عالم تھے۔ان سے آپ کا سبق ہونے لگا۔ایک دفعہ انہوں نے احسان کے طور پر کہا کہ تمہاری خاطر مجھے قسم کا کفارہ دینا پڑا۔میں نے قسم اس لئے تو ڑی کہ تم ذہین ہو۔اگر وہابیوں کے قابو آ گئے تب بھی ہمارا نقصان ہے اور اگر یونہی یہاں سے چلے گئے تو ہمارے شہر کی علمی بدنامی ہوگی۔آپ نے کہا کہ افسوس آپ نے حصول ثواب کو ذرا بھی مد نظر نہیں رکھا۔میں پکھل یعنی شہر مانسہرہ کے شمال کے علاقہ متصل یاغستان کا رہنے والا نہیں ہوں۔استاد نے کہا ہم دریائے اٹک سے پار اور راولپنڈی سے درے کے علاقہ کو پھل کہتے ہیں۔آپ نے کہا۔میں اس علاقہ کا بھی نہیں۔یہ استاد صاحب علم تھے۔فیضی کی بے نقطہ تفسیر کا انہوں نے ہی فارسی میں ترجمہ کیا ہے لیکن انہیں فرقہ اہل حدیث سے اس قدر بغض تھا کہ نواب صدیق حسن خان کو ہمیشہ زندیق حسن خان کہتے تھے اور حضرت مولوی صاحب کو رفع سبابہ پر کہتے کہ کوئی تمہاری انگلی تو ڑ دے گا۔ایک صاحب توجہ سے ملاقات آپ نماز جمعہ مولوی رحمت اللہ کی مسجد واقع صدر پشاور میں پڑھا کرتے تھے۔ایک روز جو آپ وہاں گئے تو مسجد میں داخل ہوتے ہی آپ کو محسوس ہوا کہ کوئی شخص صاحب توجہ وہاں موجود ہے اور مولوی رحمت اللہ صاحب کو جو نقشبندی طریق کے عامل تھے اور دوسرے لوگوں کو بھی اس توجہ سے متاثر پایا اور دیکھا کہ محراب کے سامنے ایک بوڑھا شخص بیٹھا توجہ کر رہا ہے۔اس شخص کی ملاقات کے لئے آپ اس کی جائے قیام پر بمعہ اپنے شاگرد حافظ محمد غوث کے گئے۔اس وقت یہ بزرگ استاد محمود اپنے مریدوں کو توجہ دے رہے تھے۔آپ اور آپ کا ساتھی بھی اس حلقہ میں شریک ہو گئے۔بعد ازاں معلوم ہوا کہ حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب (والد سید ولی اللہ شاہ صاحب ناظر امور عامہ ) ان کے مرید تھے اور حضرت عبداللہ غزنوی ( جو کہ نقشبندی تھے ) کے بعد الہی بخش اکو نٹنٹ اور عبدالحق اکو نٹنٹ اور میجر امیر علی شاہ جو تینوں لاہور کے رہنے والے اور سخت معاندین احمدیت ہوئے ، اس بزرگ سے توجہ لیا کرتے تھے۔استاد محمود بالکل ان پڑھ تھے۔پہلے نجاری کا کام کرتے تھے اور اب ٹھیکہ داری کا کام کرتے تھے اور باوجود پیر ہونے کے مریدوں سے کچھ نہ لیا کرتے تھے اور مخیر اور مہمان نواز تھے۔توجہ کا ایسا مشاق حضرت مولوی صاحب کے دیکھنے میں نہیں آیا۔آپ اور آپ کا ساتھی حافظ عبد الرحمن صبح و شام ان کی مجلس میں شریک ہونے لگے کہ اس زمانہ میں آپ اسے کرامت اور ولایت سب