اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 393 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 393

۳۹۸ آپ کے پہاڑی علاقہ کے لوگ شکاری ہوتے ہیں۔آپ کے والد صاحب بھی شکاری تھے آپ بھی غلیل کے نشانچی تھے۔چنانچہ ۱۹۰۳ء میں ایک دفعہ موسم گرما میں جبکہ غیر وسیع شدہ مسجد مبارک کے شہ نشین پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس دربار شام میں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب جانب گوشہ جنوبی بیٹھے تھے تو سر شام ہی ایک چغد نے آپ کے سر پر جھپٹا مارا اور آپ کی ململ کی دوکی کی ٹوپی پنجہ میں پھنسا کرلے گیا۔مجلس میں اس چغد کی جرات دیکھ کر سناٹا چھا گیا۔دوسرے روز بوقت چاشت کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت محمد سرورشاہ صاحب کے دائیں ہاتھ میں غلیل ہے اور بائیں ہاتھ میں وہی ظالم چغد شکارشدہ لٹک رہا ہے اور حضرت سید صاحب اپنے خاص انداز میں مسکرا رہے ہیں اس چغد کا ٹھکانا دن کے وقت ایک بڑ کے درخت پر ہوتا تھا جو میرزا نظام الدین وامام الدین صاحبان والے مکان کے گیٹ کے باہر بائیں طرف کے چبوترہ پر تھا جو بعد میں کٹو ایا گیا اور وہاں پر چوک احمدیہ کی دکانیں بنائی گئیں۔۱۹۰۳ء میں ایک دفعہ میرے والد صاحب نے اطلاع دی کہ میری والدہ صاحبہ بیمار ہیں میں دعا کرنے کے لئے بوقت تہجد مسجد مبارک میں پہنچا تو حضرت مولوی صاحب کو نہایت عاجزی اور توجہ الی اللہ کے ساتھ و تَبَبَّلُ إِلَيْهِ تَبْتِيلا A کے رنگ میں نوافل میں مشغول پایا۔جب آپ نے سلام پھیرا تو مجھے دیکھ کر آپ مسکرائے اور میں نے والدہ صاحبہ کے لئے دعا کے لئے عرض کیا۔اس زمانہ میں آپ کا معمول تھا کہ رات کا آخری حصہ مسجد مبارک میں نوافل کی ادائیگی میں گزارتے تھے۔آپ کو میں نے ”شو“ یعنی تسموں والا بوٹ پہنتے دیکھا ہے آپ شو کے تسموں کو اتناڈھیلا رکھ کر باندھتے تھے کہ آپ کا پیر بوٹ میں سے بآسانی نکل سکے اور آسانی سے بوٹ پہنا جا سکے بار بار تسمے کھولنے باندھنے نہ پڑیں۔آپ کے لباس میں سادگی تھی لیکن آپ اس بات کی پابندی رکھتے تھے کہ گھر سے باہر گھٹنوں سے نیچے تک لمبا کوٹ اور پگڑی زیب تن کئے بغیر نہ نکلتے تھے۔آپ مہندی سے داڑھی مبارک رنگتے تھے۔جوانی میں آپ کے گورے رنگ کے چہرے پر سکے بالوں والی داڑھی عجیب رنگ کی اور دلکش نظر آتی تھی۔آپ شکل و شباہت سے ایک پر رعب بزرگ معلوم ہوتے تھے لیکن گفتگو کے وقت آپ کی شیریں کلامی ہر ایک کا دل موہ لیتی تھی۔آپ کا جذبہ حیا اس امر سے ظاہر ہے کہ آپ سے میں نے سنا کہ آپ بند غسل خانہ میں بھی دھوتی باندھ کر فسل کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ کے حضور دعا ہے کہ حضرت سید صاحب پر تا قیامت اس کی رحمت کی بارش ہو اور آپ کا رفع اعلیٰ علیین میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ہو اور آپ کے شاگردان رشید اور اولا دعزیز کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ سلسلہ کی خدمت کی توفیق دے اور نظام سلسلہ اور خلافت کے نور سے منور کرے۔آمین۔