اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 378 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 378

۳۸۳ کرنے کے لئے دعا کرنا۔کیونکہ اس سے بڑھ کر اور کوئی بھی معاون اور مددگار نہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اعلی علیین میں جگہ مرحمت فرمائے اور ہمیں آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین -۱۴ از اخویم مولوی محمد حفیظ صاحب بقا پوری فاضل ایڈیٹر ہفت روزہ بدر قادیان عالم باعمل - مفتی سلسلہ۔فقیہہ۔خطیب۔مناظر۔عاشقِ قرآن۔صائب الرائے۔سادہ مزاج۔زہد و تقویٰ میں مثالی شخصیت۔یہ ہیں چند خصوصی صفات اس بلند پایہ وجود کی جس کی مجلس میں چند روز اس عاجز کو بھی زانوئے تلمذ تہ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔حضرت مرحوم کے اوصاف خاصہ میں ایسا وصف آپ کی سیرت کے بیان میں ایک مستقل باب کی حیثیت رکھتا ہے اور ممکن نہیں کہ ایک ہی مضمون میں ان سب کو جمع کیا جا سکے۔ہر شخص جو کچھ بھی بیان کرے گا اس کا ایک حصہ ہی ہوگا۔اس لئے اختصار اچند باتوں کا تذکرہ محض احسان مندی کے رنگ میں حصول ثواب کی خاطر پیش ہے۔مسلم شریف میں روایت آتی ہے کہ سات ایسے آدمی ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تبارک و تعالیٰ انہیں اپنے خاص سایہ میں جگہ دے گا۔ان سات خوش نصیب افراد میں سے ایک وہ بھی ہے جس کے متعلق فرمایا۔ورجل قلبه معلق بالمساجد، یعنی وہ شخص جو مساجد میں اس کثرت اور تواتر کے ساتھ آتا ہے اور اتنی دیر وہیں بیٹھ کر ذکر الہی میں مشغول رہتا ہے گویا اس کا دل مساجد ہی کے ساتھ لٹکا ہوا ہے اگر ایک بار مسجد سے نکلا ہے تو اس کے بعد جلد ہی لوٹ آتا ہے۔الفاظ نبوٹی کا صحیح مصداق اگر دیکھا تو حضرت مولانا مرحوم کا وجود تھا۔مسجد مبارک قادیان میں سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے بعد دوسرے درجہ پر سالہا سال تک امامت کی پنجگانہ نمازوں کے لئے مسجد میں تشریف لانے کا ایسا اہتمام والتزام کہ خواہ امام بننا ہو یا مقتدی ہمیشہ ہر نماز کے لئے اول وقت میں تشریف لاتے اور نماز کھڑی ہونے تک اول صف میں بیٹھ کر ذکر الہی میں مشغول رہتے۔اس التزام پر نگاہ کرنے والا خیال کرتا کہ ایک نماز ادا کرنے کے بعد شاید آپ اپنے گھر تشریف ہی نہیں لے گئے۔قرآن کریم کے عاشق تھے۔ایک لمبے عرصے تک مسجد اقصیٰ میں درس دیتے رہے جامعہ احمدیہ میں پرنسپل رہے جامعہ کی بلڈنگ مسجد نور کے قریب مغرب میں تھی اور آپ کا مکان اندرون شہر تھا۔میں نے بار ہادیکھا کہ جامعہ کے کھلنے کا وقت ہو گیا ہے آپ اپنا مخصوص لباس زیب تن فرمائے ایک مضبوط اور خوبصورت درمیانہ قسم