اصحاب احمد (جلد 5) — Page 377
۳۸۲ کو اپنے پاس بلایا۔اور اپنا قمیص اوپر کر کے فرمایا کہ میری چھاتی کو ہاتھ سے دباؤ۔میں نے از راہ ادب معمولی سا ہاتھ لگا کر چھوڑ دیا۔فرمایا نہیں اچھی طرح دباؤ۔دیکھو ہڈی مشکل سے ہاتھ لگے گی۔چنانچہ واقعی آپ کی چھاتی کا حصہ گوشت سے پر تھا یہ گوشت بڑھاپے میں لٹکا ہوا نہیں تھا۔بلکہ خوب سخت تھا اور آپ کے ورزشی جسم پر دلالت کرتا تھا۔اپنی جوانی کے واقعات میں آپ نے ایک دفعہ یہ واقعہ بھی سنایا کہ ہمارے گاؤں کے باہر ایک اتنا بڑا درخت تھا کہ جب اس کو کاٹا گیا تو اس کے گھیر پر سات آدمی صف بنا کر نماز پڑھ سکتے تھے ہمارے گاؤں والوں کا یہ عقیدہ تھا کہ اس پر جن رہتے ہیں اس لئے اس کو کاٹنا تو کجا کوئی اس کی شاخ بھی نہیں کا تھا تھا۔چونکہ وہ ہماری زمین میں تھا۔اس لئے میں نے فیصلہ کیا کہ اس کو کاٹا جائے تا کہ یہ باطل عقیدہ ختم ہو۔سو میں نے دو نو جوانوں کو ساتھ لے کر اسے کاٹنا شروع کیا۔دو پہر تک ہم نے کٹائی کا کچھ کام کیا۔اتفاق یہ ہوا کہ دونوں میں سے ایک نو جوان جو میرے ساتھ کام کر رہا تھا دو پہر کو جب وہ اپنے گھر گیا تو اس کے گھر والے قفل لگا کر کہیں گئے ہوئے تھے اس لئے وہ ایک ہمسایہ کے مکان کی چھت سے جو درمیان میں چھوٹی سی گلی تھی اسے پھاند کر اپنے گھر جانے لگا تو اس کا پاؤں پھسل گیا۔اور وہ گلی میں گر پڑا اور سخت زخمی ہو گیا لوگوں میں شور پڑ گیا کہ اس نے چونکہ اس درخت کو کاٹنے میں حصہ لیا۔اس لئے جن بابا نے اس کو گرا دیا ہے۔فرمایا کہ جب یہ خبر مجھے پہنچی تو میں نے اس کی جا کر مرہم پٹی کی اور میں نے عزم کر لیا کہ میں اس درخت کو کاٹ گراؤں گا۔خواہ مجھے اکیلے کو یہ کام کرنا پڑے۔ورنہ گاؤں میں یہ عقیدہ بالکل راسخ ہو جائے گا کہ اس درخت پر جن بابا رہتا ہے۔چنانچہ میں نے کئی دن کی محنت شاقہ کے بعد اس درخت کو کاٹ دیا۔اور اس کے کٹ جانے پر مجھے کسی جن بابانے نہیں ستایا اور لوگوں کا اس درخت کے متعلق غلط عقیدہ ختم ہوا۔بعض اہم نصائح سنسکرت زبان کی تین سال تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد جب میں فارغ ہوا تو جامعہ احمدیہ کی طرف سے اس عاجز کو ایک الوداعی ایڈریس دیا گیا۔اس میں حضرت مولوی صاحب بھی شریک تھے۔تقریب کے خاتمہ پر آپ بڑی محبت اور شفقت سے ملے اور فرمایا۔میاں اب تم باہر جارہے ہو تین باتوں کا التزام رکھنا۔۱۔قرآن شریف با قاعدگی سے روزانہ پڑھنا۔۲۔نماز با جماعت کا پورا پورا خیال رکھنا۔۳۔کتنا ہی مشکل اور اہم معاملہ پیش آجائے اس میں گھبرانا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے اس معاملہ کے حل