اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 357 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 357

۳۶۲ فرمایا یہ تو اور بھی اچھا ہے آپ جا کر کہیں کہ میں آپ کے ضلع کا ہوں۔غریب طالب علم ہوں وظیفہ کے لئے ضامن یہاں پر کوئی نہیں۔چنانچہ میں آپ کی خدمت میں دفتر بہشتی مقبرہ میں پہنچا آپ یہ سن کر کہ یہ بچہ ضلع مظفر آباد کا ہے چونک پڑے مجھ سے تمام حالات سنے اور اس قدر تسلی دی کہ میں تازیست نہیں بھول سکتا۔فارم پر اپنی ضمانت لکھ کر خود اٹھے اور دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں لے گئے۔وہاں پر مکرم شیخ یوسف علی صاحب مرحوم پرائیویٹ سیکرٹری کو بلایا اور ان کو کہا کہ میں کوشش کروں گا اس بچہ کا وظیفہ لگ جائے میں خود حضور کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتا تھا مگر حضور کو فرصت نہیں۔آپ یہ کریں کہ یہ فارم حضور کی خدمت میں پہنچا دیں۔انہوں نے فارم لے کر بھجوا دیا۔پھر فرمایا وظیفہ لگتا رہے گا آپ اس کو کپڑے دو جوڑے اور ایک کمبل یہاں سے دے دیں۔انہوں نے ایک کمرہ کھول دیا جو کپڑوں سے بھرا تھا۔وہاں سے کپڑے اور کمبل لئے پھر حضرت میر محمد اسحاق صاحب کے پاس مجھے لے گئے وہ مہمان خانہ میں تھے۔خوب یاد ہے کہ مولوی صاحب کا سبز کوٹ ہوا میں لہراتا ہوا جاتا ہے۔مجھے لے جا کر میر صاحب کو سفارش فرما کر وہی کچھ کہا جو شیخ صاحب کو کہا تھا۔حضرت میر صاحب مجھے جانتے تھے۔وہ پہلے ناراض سے ہونے لگے کہ اس نے مجھے کیوں نہیں کہا مگر جب حضرت مولوی صاحب نے حضرت میر صاحب کو یہ کہا کہ یہ میرے ضلع کا ہے اور ہموطن ہے۔اس پر حضرت میر صاحب خوب ہنسے اور مجھے کہا۔جاؤ بیٹا ! میں تمہارا خیال رکھوں گا۔چنانچہ میرا خیال رکھتے رہے۔آپ کی یہ شفقت میں کبھی بھول نہیں سکتا۔میرے لئے یہ تا زیست ایک بہت قیمتی سبق تھا۔اسی طرح ایک بار حضرت ماسٹر صاحب نے حضرت شاہ صاحب سے ان کا ہموطن لکھوا کر مجھے ساتھ لیا۔اور مکرمی چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کے پاس کوٹھی لے گئے میں خاموش رہا۔مگر وہاں کچھ بات کی اور واپس آگئے بعد ازاں حضرت مولوی صاحب کو اطلاع بذریعہ پرائیویٹ سیکرٹری چوہدری صاحب سے آئی کہ آپ کی سفارش پر محمد سعید کشمیری کا دس روپے ماہوار وظیفہ جاری کیا گیا ہے۔جو مجھے کچھ عرصہ مدرسہ احمدیہ کے پتہ پر ملتا رہا۔فجزاهم الله احسن الجزاء في الدنيا والاخره از اخویم مولوی محمد اسمعیل صاحب مولوی فاضل وکیل ہائیکورٹ یاد گیر علاقہ میسور تحریر فرماتے ہیں۔قادیان میں میرا تعلیم کا زمانہ ۱۹۲۳ء سے ۱۹۳۴ء تک گویا مسلسل گیارہ سال کا ہے۔۱۹۳۳ء میں جامعہ احمدیہ سے میں نے مولوی فاضل اور ۱۹۳۴ء میں میٹرک کے امتحانات میں کامیابی حاصل کی۔میں نو برس کا یتیم بچہ تھا جب میں قادیان بھجوایا گیا۔میرے والد محترم محمد ابراہیم صاحب اور والدہ محترمہ کا سایہ میرے سر سے اٹھا